Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ibrahim 14:45

14:45
وسكنتم في مساكن الذين ظلموا انفسهم وتبين لكم كيف فعلنا بهم وضربنا لكم الامثال ٤٥
وَسَكَنتُمْ فِى مَسَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ ٤٥
وَسَكَنتُمۡ
فِي
مَسَٰكِنِ
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
وَتَبَيَّنَ
لَكُمۡ
كَيۡفَ
فَعَلۡنَا
بِهِمۡ
وَضَرَبۡنَا
لَكُمُ
ٱلۡأَمۡثَالَ
٤٥
あなたがたは,自らの魂を損っていた人びとの住まい(の跡)に住み,われは如何にかれらを処分したかをあなたがたに明らかにし,またあなたがたのために(多くの)例を述べたのである。」

— Ryoichi Mita

“Các ngươi đã dừng chân tại các ngôi nhà của những kẻ thời trước, những kẻ đã bất công với chính bản thân chúng (như dân ‘Ad, dân Thamud…). Các ngươi đã thấy rõ cách TA đã trừng trị chúng, và thậm chí TA đã giải thích cho các ngươi tất cả điều này bằng cách đưa ra các hình ảnh thí dụ.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 14:44 đến 14:45

آیت نمبر 44 تا 45

اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔

اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔

اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔

اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔

وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔

اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔