Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Luqman 31:22

31:22
۞ ومن يسلم وجهه الى الله وهو محسن فقد استمسك بالعروة الوثقى والى الله عاقبة الامور ٢٢
۞ وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌۭ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ ٢٢
۞ وَمَن
يُسۡلِمۡ
وَجۡهَهُۥٓ
إِلَى
ٱللَّهِ
وَهُوَ
مُحۡسِنٞ
فَقَدِ
ٱسۡتَمۡسَكَ
بِٱلۡعُرۡوَةِ
ٱلۡوُثۡقَىٰۗ
وَإِلَى
ٱللَّهِ
عَٰقِبَةُ
ٱلۡأُمُورِ
٢٢
誰でも善行に励み,真心を尽くしてアッラーに傾倒する者は,堅固な取っ手を確り握った者である。凡ての事の終末はアッラーに(帰着するので)ある。

— Ryoichi Mita

Người nào thần phục Allah và là người làm tốt (trong thờ phượng Ngài và trong hành thiện vì Ngài) thì y thực sự đã nắm lấy được sợi dây cứu rỗi vững chắc. Quả thật, kết quả của mọi sự việc đều do Allah quyết định.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ومن یسلم ۔۔۔۔۔ واقبۃ الامور (22) ” “۔

یعنی پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور اس کے ساتھ حسن عمل اور حسن سلوک کو اپنانا ، یعنی مکمل سپردگی اور اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی ہونا ، اللہ کے احکام ، ہدایات اور فرائض میں رنگ جانا ، اس شعور اور یقین کے ساتھ کہ اللہ کی رحمت ہمارے شامل حال ہے اور اللہ ہر وقت نگہبان ہے ۔ اس کا وجد ان اللہ کی رضا مند کو پاتا ہو اور وہ اس سپر دگی میں اپنے ساتھ پوری کا ئنات کو سربسجود سمجھتا ہو ۔ یہ سب اشارات اپنے چہرے کو اللہ کے حوالے کرنے کے لفظ کے اندر موجود ہیں ۔ چہرہ دراصل نہایت ہی مکرم حصہ ہے وجود انسانی کا ۔

ومن یسلم وجھہ ۔۔۔۔۔۔ بالعروۃ الوثقٰی (31: 22) ” جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے اور عملاً وہ نیک ہو ، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا “۔ یعنی وہ رسی جو نہیں کٹتی۔ جو کبھی ڈھیلی نہیں پڑتی۔ جو کچھ اس شخص کو دھوکہ نہیں دیتی جو اسے پکڑتا ہے۔ مراد وہ سہارا ہے جسے اسنان تھام لیتا ہے یعنی جو شخص اللہ کے سپرد ہوجائے وہ سمجھے کہ وہ مشکل ترین حالات میں ، تاریک راتوں میں ، سخت مشکلات میں ، سخت آندھیوں میں ، کبھی بےسہارا نہ ہوگا۔

یہ مضبوط سہارا وہ یقین ہے اور وہ گہرا رابطہ ہے جو بندہ مومن اور اس کے رب کے درمیان ہوا کرتا ہے۔ ایسا شخص ہر حال میں مطمئن ہوتا ہے اور اس پر جو مشکلات بھی آئیں وہ انہیں برداشت کرتا ہے۔ نہایت اطمینان اور نہایت وقار کے ساتھ۔ بڑے بڑے واقعات اور حادثات میں وہ باوقار رہتا ہے اور مشکلات کو برداشت کرتا ہے۔ نیز وہ اگر خوشحال ہوتا ہے تو بھی وہ آپے سے باہر نہیں ہوتا اور اعتدال اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اسی طرح اگر اس پر اچانک کوئی بحران آجائے تو وہ حواس باختہ نہیں ہوتا اور نہ خدا کے راستے میں آنے والی گوناگوں مشکلات میں پریشان ہوتا ہے۔

دعوت اسلامی کا سفر طویل اور خطرات سے پر ہے۔ اس میں محرومیوں اور مشکلات بھی خطرناک ہوتی ہیں لیکن خوشحالی اور مالداری اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ مصیبت بھی آزمائش اور عافیت بھی آزمائش۔ لہٰذا ایسے سہارے کی اس راہ میں ہر وقت ضرورت ہوتی ہے جو کبھی ڈھیلا نہ ہو۔ ایسی رسی کی ضرورت ہوتی ہے جو ٹوٹ نہ جائے اور یہ ضرورت ہر وقت رہتی ہے۔ یعنی مضبوط سہارے کی اور یہ مضبوط سہارا کیا ہے ؟ اسلام لانا ، اللہ پر یقین کرنا ، اس کے سپرد ہوجانا اور راہ احسان اختیار کرنا۔ پھر انجام اللہ کے ہاتھ میں دے دینا۔

والی اللہ عاقبۃ الامور (31: 22) ” اور سہارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے “۔ یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے اور آخری مرجع وہی ہے تو مناسب ہے کہ انسان پہلے سے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے اور اس کی طرف نہایت روشن اعتماد اور قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق راستے طے کرتا رہے۔