Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Luqman 31:23

31:23
ومن كفر فلا يحزنك كفره الينا مرجعهم فننبيهم بما عملوا ان الله عليم بذات الصدور ٢٣
وَمَن كَفَرَ فَلَا يَحْزُنكَ كُفْرُهُۥٓ ۚ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٢٣
وَمَن
كَفَرَ
فَلَا
يَحۡزُنكَ
كُفۡرُهُۥٓۚ
إِلَيۡنَا
مَرۡجِعُهُمۡ
فَنُنَبِّئُهُم
بِمَا
عَمِلُوٓاْۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٢٣
誰が信仰しなくても,その不信心に悩まされてはならない。かれらはわれの許に帰る。その時われは,その行ったことをかれらに告げ知らせるであろう。本当にアッラーは(人間が)胸に抱くことを熟知なされる。

— Ryoichi Mita

Người nào vô đức tin thì Ngươi (Thiên Sứ) chớ để cho sự vô đức tin của kẻ đó làm cho Ngươi buồn lòng. Rồi đây, (những kẻ vô đức tin đó) sẽ trở lại trình diện TA, và TA sẽ cho họ biết về những việc mà họ đã làm. Quả thật, Allah là Đấng biết hết mọi điều được giấu kín trong lòng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 31:23 đến 31:24

ومن کفر فلا ۔۔۔۔ عذاب غلیظ (23 – 24) ” ۔ “۔

وہ تو تھا انجام ان لوگوں کا جو اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے سپرد کردیں اور یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو کفر اختیار ہی نہ دیں گے۔

ومن کفر فلا یحزنک کفرہ (31: 23) ” اور جو کفر کرتا ہے ، اس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے “۔ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ آپ جو سرور کونین ہیں ان کیلئے پریشان ہوں ۔ یہ تو بہت ہی حقیر و صغیر ہیں اور آخرت میں ان کا انجام اس سے بھی زیادہ حقارت آمیز ہونے والا ہے۔ یہ اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کو ان کے اعمال کے بدلے پکڑے گا ، وہ ہر شخص کے اعمال کو اچھی طرح جانتا ہے ، خواہ ظاہر ہو یا خفیہ ہو ، یا اس کے سینے میں ہو یا اس کی نیت میں ہو۔

الینا مرجعھم ۔۔۔۔۔ بذات الصدور (31: 23) ” انہیں پلٹ کر آنا تو ہمارے ہی طرف ہے۔ پھر ہم انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقیناً اللہ سینوں میں چھپے ہوئے راز جانتا ہے “۔ زندگی کا سازوسامان جو انسان کو فریب دیتا ہے ایک مختصر عرصے کے لیے ہے اور نہایت ہی کم قیمت ہے۔

نمتعھم قلیلا ۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (31: 24) ” ہم انہیں تھوڑی مدت اس دنیا میں مزے کرنے کا موقعہ دے رہے ہیں ، پھر ان کو بےبس کرکے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے “۔ تھوڑے دن تو مزے کریں گے ، پھر خوفناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور انہیں اس عذاب کی طرف دھکیل کرلے جایا جائے گا۔ عذاب کی تعریف میں غلیظ کا لفظ آیا ہے اور اس کے ذریعے عذاب کو مجسم کردیا گیا ہے۔ اور اضطرار کے معنی میں کفار کی بےبسی کا اظہار کیا گیا یعنی وہ اس عذاب سے اپنے آپ کو بچانہ سکیں گی اور نہ لیت و لعل کرسکیں گے۔ یہ تو تھا کافروں کا حال لیکن جو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلے اور اپنے رخ کو اللہ کے سپرد کر دے اور سنجیدہ اور مطمئن ہوکر رب تعالیٰ کی طرف چل پڑے وہ نہایت ہی اعلیٰ مقام پر ہوگا بمقابلہ کافر کے۔

اب ان کو خود ان کی فطرت کی منطقی دلیل سے دو چار کردیا جاتا ہے ، جب ان کے سامنے یہ عظیم کائنات رکھ دی جاتی ہے اور سوال یہ ہے کہ آیا اس کا کوئی خالق ہے یا نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہے کیونکہ ذات باری تو انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اس کے سوا اس کائنات کی اور کوئی تعبیر ہی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ لوگ فطرت کی اس سادہ منطق سے بھی کجی اختیار کرتے ہیں اور اسے بھی بھلا دیتے ہیں حالانکہ اس سے اور کوئی قوی اور درست دلیل نہیں ہے۔