Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Luqman 31:26

31:26
لله ما في السماوات والارض ان الله هو الغني الحميد ٢٦
لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ ٢٦
لِلَّهِ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
هُوَ
ٱلۡغَنِيُّ
ٱلۡحَمِيدُ
٢٦
天と地の凡てのものは,アッラーに属する。本当にアッラーは満ち足られる方,讃美されるべき方であられる。

— Ryoichi Mita

Mọi vật trong các tầng trời và trái đất đều thuộc về Allah. Quả thật, Allah là Đấng Giàu Có, Đấng Đáng Được Ca Tụng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 31:25 đến 31:26

ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔

کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود یونہی پیدا ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی مدبر کا ہونا لازم ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ، خود بخود قائم ہوگئی اور منظم ہوگئی محض اتفاقاً ، تو اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں ہے۔ اس قسم کے قول کو فطرت اپنی گہرائیوں کے ذریعہ مسترد کردیتی ہے۔

وہ لوگ جو اس دور میں عقیدہ توحید کا مقابلہ کر رہے تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کا راستہ روکے کھڑے تھے سخت مجادلہ کر رہے تھے ۔ یہ لوگ خود اپنی فطرت کے شعور اور منطق کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے ، جب ان کے سامنے یہ کائنات اور اس کی موجودگی کو رکھا جاتا تھا ، جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور صرف دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس سوال کے جواب میں کوئی تردد نہ کرتے تھے۔ جب پوچھا جاتا کہ ” زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو وہ فوراً کہہ دیتے “ اللہ نے “۔ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس جواب کے جواب میں بس اللہ کی حمد کریں ” الحمدللہ “۔ الحمدللہ کہ ان پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے فطری منطق کو تسلیم کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کی حد تک موحد ہوگئے۔ اس کے سوا ہر حال میں حمد و ثنا کرتے رہو۔ اب جدال و مباحثہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا تبصرہ۔

بل اکثرھم لا یعلمون (31: 25) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اور مجادلہ کرتے ہیں۔ دلائل فطرت کو نہیں سمجھتے اور اس عظیم کائنات کے ہوتے ہوئے بھی عقیدہ توحید کے قائل نہیں۔ انہوں نے چونکہ زمین اور آسمان کی تخلیق کی حد تک اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے اس لئے اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ خالق ہونے کے ناطے اس کائنات کا مالک مطلق بھی ہے۔ اس حصے کا بھی جسے انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس حصے کا بھی جسے مسخر نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق سے غنی ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے اگرچہ لوگ اس کی حمد و ثنا نہ کریں۔

للہ ما فی السموت والارض ان اللہ ھو الغنی الحمید (31: 26) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ یہ سفر اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ غنا ختم ہونے والی نہیں۔ اللہ کا علم لامحدود ، اس کی قدرت بےانتہا اور اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام مخلوق پر وہ قادر ہے اور یہ بات ایک کائناتی منظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔