Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Saba 34:43

34:43
واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قالوا ما هاذا الا رجل يريد ان يصدكم عما كان يعبد اباوكم وقالوا ما هاذا الا افك مفترى وقال الذين كفروا للحق لما جاءهم ان هاذا الا سحر مبين ٤٣
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ قَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّا رَجُلٌۭ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُكُمْ وَقَالُوا۟ مَا هَـٰذَآ إِلَّآ إِفْكٌۭ مُّفْتَرًۭى ۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ ٤٣
وَإِذَا
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَٰتُنَا
بَيِّنَٰتٖ
قَالُواْ
مَا
هَٰذَآ
إِلَّا
رَجُلٞ
يُرِيدُ
أَن
يَصُدَّكُمۡ
عَمَّا
كَانَ
يَعۡبُدُ
ءَابَآؤُكُمۡ
وَقَالُواْ
مَا
هَٰذَآ
إِلَّآ
إِفۡكٞ
مُّفۡتَرٗىۚ
وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
لِلۡحَقِّ
لَمَّا
جَآءَهُمۡ
إِنۡ
هَٰذَآ
إِلَّا
سِحۡرٞ
مُّبِينٞ
٤٣
明白なわれの印が,かれらに読誦されても,かれらは言う。「これは一人の男が,あなたがたの祖先の崇拝していた神々から背かせようとするのである。」また言う。「これは只捏造した,作りごとである。」また真理を信じない者たちは,それがかれらに現われると,「これは明ら かに魔術に過ぎない。」と言う。

— Ryoichi Mita

Và khi các lời mặc khải rõ ràng của TA được đọc ra cho họ thì họ nói: “Người đàn ông này chỉ muốn cản trở các người tôn thờ những thần linh mà cha mẹ của các người đã tôn thờ mà thôi.” Họ nói: “Đây thật ra chỉ là điều giả dối khéo bịa đặt.” Và những kẻ vô đức tin nói về chân lý khi nó đến với họ: “Đây rõ ràng chỉ là bùa mê hoặc.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

درس نمبر 198 ایک نظر میں

اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔

اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ ان لوگوں کو مسلسل جو دعوت دے رہے ہیں اس دعوت میں ان کا کوئی مفاد بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اجر بھی طلب نہیں کرتے تو آخر یہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت میں شک کیوں کرتے ہیں اور منہ کیوں موڑتے ہیں۔ اس کے بعد قل قل قل سے یہ ضربات مسلسل لگائی جاتی ہیں اور یہ اس قدر زور دار ہیں کہ اگر کسی دل میں ذرہ برابر بھی شعور ہو تو وہ متاثر ہوئے نظر نہیں رہ سکتا۔

اور یہ سبق قیامت کے ایک نہایت ہی متحرک منظر پر ختم ہوتا ہے جو نہایت ہی متحرک ہے اور سابقہ ضربات کے ساتھ مناسب ہے۔

درس نمبر 198 تشریح آیات

43 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54