Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:114

20:114
فتعالى الله الملك الحق ولا تعجل بالقران من قبل ان يقضى اليك وحيه وقل رب زدني علما ١١٤
فَتَعَـٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِٱلْقُرْءَانِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰٓ إِلَيْكَ وَحْيُهُۥ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِى عِلْمًۭا ١١٤
فَتَعَٰلَى
ٱللَّهُ
ٱلۡمَلِكُ
ٱلۡحَقُّۗ
وَلَا
تَعۡجَلۡ
بِٱلۡقُرۡءَانِ
مِن
قَبۡلِ
أَن
يُقۡضَىٰٓ
إِلَيۡكَ
وَحۡيُهُۥۖ
وَقُل
رَّبِّ
زِدۡنِي
عِلۡمٗا
١١٤
アッラーは,いと高くおられる真の王者である。あなた(預言者ムハンマド)に対する啓示が完了しない前に,クルアーンを急いではならない。寧ろ(祈って)言いなさい。「主よ,わたしの知識を深めて下さい。」

— Ryoichi Mita

Allah là Đấng Tối Cao, Đức Vua Đích Thực. Và Ngươi (Muhammad) chớ hấp tấp với Qur'an trước khi việc mặc khải Nó sẽ hoàn tất cho Ngươi, mà Ngươi hãy cầu nguyện: “Lạy Thượng Đế của bề tôi! Xin Ngài ban thêm kiến thức cho bề tôi.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وہ اللہ تو بہت بلند ہے جس کے سامنے چہرے جھک جاتے ہیں ، اس کی جناب میں مایوسی تو ظالموں کو ہوتی ہے اور مومنین صالحین کے لئے تو وہاں اطمینان ہی اطمینان ہے۔ وہ بلندیوں سے اس قرآن کو بھیجتا ہے۔ آپ اس کے دہران میں جلدی نہ کریں۔ قرآن کے نزول میں گہری حکمت ہے۔ اس حکمت اور مقصد کو لازماً پورا کیا جائے گا۔ پس آپ رب تعالیٰ سے زیادتی علم کی دعا کرتے رہیں اور جو کچھ آپ کو دیا جا رہا ہے اس کے بارے میں مطمئن ہوجائیں۔ اس کے بارے میں یہ پریشانی نہ دکھائیں کہ وہ تجھ سے چلا جائے گا۔ علم تو وہ ی ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ وہ باقی ہے ، وہ ہمیشہ نفع دیتا رہے گا ، قائم رہے گا ، پھلتا پھولتا رہے گا اور کبھی ضائع نہ ہوگا۔

اسی مناسبت سے یعنی علم و نسیان علم کے مضمون کی مناسبت سے ، یہاں قصہ آدم آتا ہے۔ آدم سے کہا گیا تھا کہ جنت میں رہو اور ایک درخت کے قریب نہ جائو۔ وہ شیطان کے اس دھوکے میں آگئے کہ یہ تو شجرۃ الخلد ہے۔ اس لئے انہوں نے اسے چکھ لیا ۔ خلافت فی الارض عطا ہونے سے قبل یہ رب تعالیٰ کی طرف سے ان کی آزمائش تھی اور یہ تجربہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لئے کرایا کہ بعد میں آنے والے انسانوں کے لئے عبرت ہو۔ جب یہ آزمائش ہوگئی تو اللہ کی رحمت آگئی ، آدم کو اٹھا لیا گیا اور ان کو راہ راست دکھا دی گئی۔

قرآنی قصص جہاں جہاں بھی آتے ہیں ، سیاق کلام میں ان کے لانے کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ یہ قصہ یہاں اس واقعہ کے بعد آتا ہے کہ جب رسول اللہ وحی الٰہی کے اخذ میں نسیان کے خوف کی وجہ سے جلدی کرتے تھے۔ یہاں قصہ آدم میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ آدم سے یہ غلطی بھول کی وجہ سے ہوئی۔ نیز سورة کا پورا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن بندوں کو دعوت اسلامی کیل ئے منتخب کرتا ہے ان پر اس کی خصوصی نظر ہوتی ہے اور ان پر رحم و کرم کی بارشیں ہوتی ہیں۔ یوں یہ بتایا جاتا ہے کہ آدم سے بھول ہوگئی تو اللہ نے ان پر رحمت کی اور ہدایت دی۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک جھلکی آتی ہے کہ جس میں اطاعت شعاروں کا حال بتایا جاتا ہے۔ نیز نافرمانوں کا حال بھی یعنی آدم زمین پر اترتے ہیں اور قیام کے بعد پھر اصل مقام پر جا کر حساب و کتاب پیش کرتے ہیں۔

اس قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے :