Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:114

20:114
فتعالى الله الملك الحق ولا تعجل بالقران من قبل ان يقضى اليك وحيه وقل رب زدني علما ١١٤
فَتَعَـٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِٱلْقُرْءَانِ مِن قَبْلِ أَن يُقْضَىٰٓ إِلَيْكَ وَحْيُهُۥ ۖ وَقُل رَّبِّ زِدْنِى عِلْمًۭا ١١٤
فَتَعَٰلَى
ٱللَّهُ
ٱلۡمَلِكُ
ٱلۡحَقُّۗ
وَلَا
تَعۡجَلۡ
بِٱلۡقُرۡءَانِ
مِن
قَبۡلِ
أَن
يُقۡضَىٰٓ
إِلَيۡكَ
وَحۡيُهُۥۖ
وَقُل
رَّبِّ
زِدۡنِي
عِلۡمٗا
١١٤
アッラーは,いと高くおられる真の王者である。あなた(預言者ムハンマド)に対する啓示が完了しない前に,クルアーンを急いではならない。寧ろ(祈って)言いなさい。「主よ,わたしの知識を深めて下さい。」

— Ryoichi Mita

Allah là Đấng Tối Cao, Đức Vua Đích Thực. Và Ngươi (Muhammad) chớ hấp tấp với Qur'an trước khi việc mặc khải Nó sẽ hoàn tất cho Ngươi, mà Ngươi hãy cầu nguyện: “Lạy Thượng Đế của bề tôi! Xin Ngài ban thêm kiến thức cho bề tôi.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 20:113 đến 20:114

خدا نے اپنی کتاب جس میں ہر قسم کے دلائل ہیں، انسانی زبان میں اتاری ہے۔ اور اس زبان کو ہمیشہ کے لیے ایک زندہ زبان بنا دیا ہے۔ اس طرح خدا کی ہدایت کو ایک ایسی چیز بنا دیا گیا ہے جس کو ہر زمانہ کا آدمی پڑھ اور سمجھ سکے۔

داعی جب حق کی دعوت لے کر اٹھے تو اس کے سامنے نتیجہ کے اعتبار سے دو چیزیں ہونی چاہئیں۔ پہلی مطلوب چیز تو یہ ہے کہ سننے والے کے اندر نفسیاتی انقلاب پیدا ہو اور وہ اللہ سے ڈرنے والا بن جائے۔ دوسری اس سے کمتر بات يه ہے کہ داعی کی بات سننے والے کے ذہن میں سوال بن کر داخل ہوجائے۔

مکہ میں دعوتی مہم کے دوران روزانہ لوگوں کی طرف سے سوالات اٹھائے جاتے تھے اور نئے نئے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش فطری طور پر یہ ہوتی تھی کہ قرآن کا وقفۂ نزول کم ہو،تا کہ آپ کو جلد جلد خدائی رہنمائی ملتی رہے۔ فرمایا کہ قرآن جس تدریج سے اتر رہا ہے وہ خدا کا طے شدہ منصوبہ ہے۔ وہ اسی طرح اترے گا اور بہر حال اپنی تکمیل تک پہنچے گا۔ تم مستقبل کے قرآن کو حال میں اتارنے کے خواہش مندنہ بنو۔ البتہ یہ دعا کرو کہ خدا تمھارے فہم قرآن میں اضافہ کرے۔ قرآن کی آیتوں میں جو وسیع مضامین چھپے ہوئے ہیں ان کا ادراک کرنے کی صلاحیت پیدا کردے۔ قرآن کی اگلی آیتوں کے بارے میں تعمیل کے بجائے تمھیں اس حکمت کو جاننے کا خواہش مند ہونا چاہیے کہ قرآن کے نزول میں ترتیب وتدریج کیوں رکھی گئی ہے۔

اس سے یہ نکلتاہے کہ داعی کو کبھی جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہيے۔ دعوت کے حالات میں جہاد کے مسائل بیان کرنا۔ اصلاحِ افراد کے دور میں اجتماعی اقدام کے احکام سنانا۔ جن مواقع پر صبرمطلوب ہے ان مواقع پر قتال کی آیتوں کے حوالے دینا، یہ سب اسی کے ذیل میں داخل ہے۔ اور اس سے پرہیز کرنا داعی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔