Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:130

20:130
فاصبر على ما يقولون وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها ومن اناء الليل فسبح واطراف النهار لعلك ترضى ١٣٠
فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ ١٣٠
فَٱصۡبِرۡ
عَلَىٰ
مَا
يَقُولُونَ
وَسَبِّحۡ
بِحَمۡدِ
رَبِّكَ
قَبۡلَ
طُلُوعِ
ٱلشَّمۡسِ
وَقَبۡلَ
غُرُوبِهَاۖ
وَمِنۡ
ءَانَآيِٕ
ٱلَّيۡلِ
فَسَبِّحۡ
وَأَطۡرَافَ
ٱلنَّهَارِ
لَعَلَّكَ
تَرۡضَىٰ
١٣٠
だからかれらの言うことを忍び,太陽が上がる前,またそれが沈む前に,あなたの主の栄光を讃えなさい。なお夜の一時も,また昼の両端にも讃えなさい。必ずあなたがたは満たされるであろう。

— Ryoichi Mita

Thế nên, Ngươi (Muhammad) hãy kiên nhẫn với những lời của họ và Ngươi hãy tán dương, ca ngợi Thượng Đế của Ngươi trước lúc mặt trời mọc cũng như trước lúc mặt trời lặn; và Ngươi hãy tán dương Ngài vào các thời khắc của ban đêm, vào giờ giấc đầu và cuối của ban ngày mong rằng Ngươi sẽ hài lòng (với phần thưởng từ nơi Allah).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یہ لوگ کفر اور مذاق اور سرکشی اور اعراض کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہتے ہیں اس پر آب پریشان نہ ہوں اور نہ اپنی جان ان کے لئے کھپائیں ، پس اب ان پر حجت تمام ہے کہ آپ صبح و شام رب کی عبادت کریں۔ صبح کے پرسکون وقت میں خدا کی یاد اور غروب آفتاب کے وقت کے سکون میں خدا کی یاد جس وقت ، یہ پوری کائنات آنکھیں بند کرتی ہے اور رات اور دن کے دو پرسکون اطراف میں خدا کی یاد ، دلوں کو بہت سکون فراہم کرتی ہے اور اللہ کی رضامندی کا باعث ہوتی ہے۔

اللہ کی تسبیح وثنا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے قریب سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو نہایت ہی اطمینان بشخ اور فرحت بخش ذات کی رفاقت میں محسوس کرتا ہے اور اس کے دامن رحمت میں مامون ہوتا ہے۔ تسبیح و عبادت کا پھل تو رضائے الٰہی ہے لیکن اس سے قبل مومن میں اندر سے سکون و اطمینان اگتا ہے اور طمانیت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ یہ اس فعل کا نوری انعام ہے۔ اے محمد ﷺ عبادت کرتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائو اور ولاتمدن عیینک الی مامتعنا بہ ازوجاً منھم (02 : 131) ” اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو ، دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ “ دنیا کا ساز و سامان ، سامان آرائش و زیبائش ، مال و متاع ، جاہ و متاع۔ جاہ و مرتبہ ، زھرۃ الحیوۃ الدنیا (02 : 131) ” حیات دنیا کا پھول “ یہ زندگی اس طرح نمودار ہوتی ہے جس طرح کسی پودے پر نرم و نازک پھول ، چمکدار ار دلکش ، لیکن پھول سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش ، ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش۔ ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال پھول دے کر آزماتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اس پھول کے ساتھ یہ لوگ کیا سلوک کرتے ہیں۔