Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Taha 20:63

20:63
قالوا ان هاذان لساحران يريدان ان يخرجاكم من ارضكم بسحرهما ويذهبا بطريقتكم المثلى ٦٣
قَالُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَٰنِ لَسَـٰحِرَٰنِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ ٱلْمُثْلَىٰ ٦٣
قَالُوٓاْ
إِنۡ
هَٰذَٰنِ
لَسَٰحِرَٰنِ
يُرِيدَانِ
أَن
يُخۡرِجَاكُم
مِّنۡ
أَرۡضِكُم
بِسِحۡرِهِمَا
وَيَذۡهَبَا
بِطَرِيقَتِكُمُ
ٱلۡمُثۡلَىٰ
٦٣
かれらは言った。「確かに両人は魔術師である。かれらはあの魔術であなたがたを国土から追い出し,あなたがたの優れた習わしを根絶しようと望んでいる。

— Ryoichi Mita

Họ bảo nhau: “Hai tên này đúng thật là hai tên phù thủy, chúng muốn dùng pháp thuật để đuổi các người ra khỏi lãnh thổ của các người và chúng muốn xóa bỏ lối sống cao quý của các người.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 20:62 đến 20:64

فتنازعوا امرھم ……استعلی (46)

جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب کچھ ہلاک کر رکھ دیا۔ ان کے اندر افراتفری پیدا ہوگئی ، ان کو اپنے اوپر اعتماد نہ رہ۔ اپنے عقائد و نظریات پر وہ شک کرنے لگے۔ دعوت حق ہمیشہ ایسی ہوتی ہے اور داعیان حق کو ہمیشہ نہایت ہی زور دار طریقے سے بات کرنا چاہئے۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) صرف دو آدمی تھے۔ جادوگر بہت تھے ، ان کی پشت پر فرعون ، اس کی پوری حکومت ، اس کی فوج اور اس کا حکومتی رعب اور اس کے مالی وسائل تھے۔ جبکہ موسیٰ و ہارون کے ساتھ ان کا رب تھا اور یہ عقیدہ محکم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہے ، سن رہا ہے اور کچھ دیکھ رہا ہے ۔

یہی وہ راز ہے جس سے فرعون جیسے قاہر و جابر کے یہ اقدامات اس کی پریشانی اور جادوگروں کی یہ دوڑ دھوپ اور پوری حکومت مشینری کا حرکت میں آنا سمجھ میں آجاتا ہے کیونکہ موسیٰ اور ہارون گیا تھا کہ فرعون جیسی قوت ان کو چیلنج دیتی ہے ، اور ان کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔ پھر یہ حکومت مکمل تیار کرتی ہے اور میدان میں آتی ہے تمام جادوگر جمع کرتی ہے۔ لوگ جمع کئے جاتے ہیں ، خود فرعون اور اس کے سردار اس مقابلے کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دو افراد کے ساتھ مقابلہ و مباحثہ کرنا قبول کس رطح کیا حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھے اور بنی اسرائیل مصریوں کے غلام کے سچائی کیہیت ناک چادر ڈال دی تھی اور اللہ ان کے ساتھ کھڑا تھا ، سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا ایک جملہ ان کی صفوں پر زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ خفیہ مشورے کریں ، اسی خطرے کو محسوس کریں ، ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں اور ایک دوسرے کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیں اور اس مقابلے میں ثابت قدمی اختیار کریں۔