Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ya-Sin 36:20

36:20
وجاء من اقصى المدينة رجل يسعى قال يا قوم اتبعوا المرسلين ٢٠
وَجَآءَ مِنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ رَجُلٌۭ يَسْعَىٰ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱتَّبِعُوا۟ ٱلْمُرْسَلِينَ ٢٠
وَجَآءَ
مِنۡ
أَقۡصَا
ٱلۡمَدِينَةِ
رَجُلٞ
يَسۡعَىٰ
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
ٱتَّبِعُواْ
ٱلۡمُرۡسَلِينَ
٢٠
その時町の外れから一人の男が走って来て,言った。「皆さん,(アッラーから)遣わされたこの人たちに従いなさい。

— Ryoichi Mita

Rồi (đột nhiên) có một người đàn ông từ cuối phố chạy đến, bảo: “Này hỡi người dân! Các người hãy tuân theo lời các vị Sứ Giả.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 36:20 đến 36:21

وجآء من اقصا المدینۃ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (20 – 21) ” “۔

یہ ہے نمونہ فطرت سلیمہ کا۔ جب فطرت سلیمہ ایک سیدھے سادے حق کو سنتی ہے تو وہ فوراً تصدیق کرتی ہے۔ نہایت سادگی اور نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ اور فطرت سلیمہ کی فکر مستقیم ہوئی ہے۔ اور وہ پرشوکت سچائی کے مقابلے میں جوش و خروش سے لبیک کہتی ہے۔

یہ شخص بھی اسی معاشرے اور گاؤں کا فرد ہے ، دعوت اسلامی کو سنتے ہی وہ لبیک کہتا ہے۔ وہ سچائی کے دلائل و نشانات کو اچھی طرح پاتا ہے۔ رسولوں اور ان کی قوم کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے اس کے اندر پائے جانے والی گہری منطق کو وہ پالیتا ہے۔ جب یہ سچائی اس کے دل و دماغ میں جاگزیں ہوگئی تو وہ فوراً حرکت میں آجاتا ہے۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ اپنا دروازہ بند کرکے اپنے گھر میں بیٹھا بھی نہیں رہتا جبکہ اس کے اردگرد گمراہی کا دور دورہ ہو ، فسق و فجور عام ہو اور لوگ کفر کر رہے ہوں ، اس کے ضمیر کے اندر جو سچائی اتر چکی ہے اور جس کو اس کا شعور حق تسلیم کرچکا ہے وہ اسے لے کر دوڑتا ہوا آتا ہے ، وہ اپنی قوم کے پاس آتا ہے ، یہ قوم جو انکار کر رہی ہے ، دھمکیاں دے رہی ہے ، تشدد پر اتر آئی ہے۔ یہ شخص شہر کے مضافاتی علاقے میں رہتا ہے۔ یہ اپنا فریضہ ادا کرنے کیلئے بھاگ نکلا ہے۔ اور اپنی اس منکر حق قوم کو دعوت حق دیتا ہے ان کو بغاوت ، سرکشی اور تشدد سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے جس کا وہ اپنے رسولوں کے بارے میں ارادہ کرچکے ہیں۔

معلوم یوں ہوتا ہے کہ یہ شخص اس سوسائٹی کا کوئی با اثر فرد نہ تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی خاندانی وجاہت اور قوت تھی کہ اس کو ان سرکشوں کے تشدد سے بچائے۔ ہاں اس کے قلب میں ایک زندہ اور پر جوش ایمان تھا۔ یہ ولولہ انگیز ایمان تھا جو اسے بستی کے مضافات سے اٹھا لایا۔

وجاء من اقصا ۔۔۔۔۔ اجرا وھم مھتدون (36: 20 – 21) ” اتنے میں شہر کے دور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے میری قوم کے لوگو ، رسولوں کی پیروی اختیار کرلو۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ جو شخص اس قسم کی تحریک اٹھاتا ہے اور اس پر کوئی اجر طلب نہیں کرتا ، نہ کوئی مفاد اس کا اس تحریک سے وابستہ ہوتا ہے۔ بیشک وہ سچا ہے۔ اگر یہ فریضہ اس کی جانب سے عائد نہیں ہے اور اللہ کے لیے نہیں ہے تو پھر وہ کیوں یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا لازمی نتیجہ ہے کہ یہ سچا ہے۔ اگر سچا نہیں تو پھر وہ کیوں خواہ مخواہ یہ مشکلات برداشت کرتا ہے۔ لوگوں کو ایسے خیالات و نظریات دیتا ہے جن کے وہ عادی نہیں ہیں ، لوگ اسے اذیت دیتے ہیں ، اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، اس سے انتقام لیتے ہیں ، وہ یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے۔ حالانکہ اس کا کوئی مفاد اس کے ساتھ وابستہ نہیں ہے ۔ نہ وہ کوئی اجرت طلب کرتا ہے۔ لہٰذا معقول راہ یہی ہے کہ

اتبعوا من لا۔۔۔۔ مھتدون (36: 21) ” پیروی اختیار کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں “۔ ان کی ہدایت تو ان کی دعوت اور ان کے کردار سے واضح ہے۔ وہ فقط ایک الٰہ کی دعوت دیتے ہیں اور یہ نہایت ہی معقول بات ہے۔ وہ ایک واضح منہاج زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں جو واضح طور پر معقول ہے۔ وہ ایسے عقائد و نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں جن میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے اور نہ کوئی وہم و گمان ہے۔ یہ لوگ دراصل ایک نہایت ہی درست اور سیدھے راستے کی طرف راہ پاچکے ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔

اس پورے معاشرے اور بستی سے پھر یہ اکیلا شخص کیوں ایمان لایا۔ اس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرے ایمان کے اسباب یہ ہیں۔ میری فطرت جاگ اٹھی ہے۔ اور اپنی فطری سلامتی کی وجہ سے بات میری سمجھ میں آگئی ہے اور کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اس دعوت سے کوئی سلیم الفطرت شخص منہ موڑے۔