Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Ya-Sin 36:78

36:78
وضرب لنا مثلا ونسي خلقه قال من يحيي العظام وهي رميم ٧٨
وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًۭا وَنَسِىَ خَلْقَهُۥ ۖ قَالَ مَن يُحْىِ ٱلْعِظَـٰمَ وَهِىَ رَمِيمٌۭ ٧٨
وَضَرَبَ
لَنَا
مَثَلٗا
وَنَسِيَ
خَلۡقَهُۥۖ
قَالَ
مَن
يُحۡيِ
ٱلۡعِظَٰمَ
وَهِيَ
رَمِيمٞ
٧٨
またかれは,われに準えるものを引合いに出して,自分の創造を忘れ,言う。「誰が,朽ち果てた骨を生き返らせましょうか。」

— Ryoichi Mita

Y đưa ra hình ảnh thí dụ cho TA nhưng lại quên mất sự tạo hóa của mình (khi y đã được TA tạo ra từ cái không là gì). Y bảo: “Ai có thể làm sống lại những khúc xương khi chúng đã rã mục?”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 36:77 đến 36:78
موت کے بعد زندگی ٭٭

ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کر دے گا پھر زندہ کر دے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔

اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31/23:ضعیف] ‏

بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کر دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» [ 77- المرسلات: 20 ] ‏ اور جیسے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا» [ 76- الإنسان: 2 ] ‏، وغیرہ۔

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کر سکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کر دیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کر دیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کر دیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔

صفحہ نمبر7427