Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:19

10:19
وما كان الناس الا امة واحدة فاختلفوا ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم فيما فيه يختلفون ١٩
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١٩
وَمَا
كَانَ
ٱلنَّاسُ
إِلَّآ
أُمَّةٗ
وَٰحِدَةٗ
فَٱخۡتَلَفُواْۚ
وَلَوۡلَا
كَلِمَةٞ
سَبَقَتۡ
مِن
رَّبِّكَ
لَقُضِيَ
بَيۡنَهُمۡ
فِيمَا
فِيهِ
يَخۡتَلِفُونَ
١٩
人間は(元来)唯一族(1つのウンマ)であった。もし以前にあなたの主から下された御言葉がなかったならば,その相違点に就いては,かれらの間に採決が下されてしまっただろう。

— Ryoichi Mita

Thật ra, trước đây loài người vốn là một cộng đồng duy nhất (chỉ thờ phượng một mình Allah), nhưng rồi họ chia rẽ. Nếu không phải vì lời phán trước đây của Thượng Đế Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) thì mọi tranh chấp của họ đã được giải quyết xong.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وما کان الناس الا امۃ واحدۃ اور نہیں تھے لوگ مگر ایک گروہ۔ یعنی سب موحد تھے ‘ فطرت پر تھے یا اسلام پر تھے مطلب یہ کہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت نوح کی بعثت سے کچھ پہلے تک یا طوفان کے بعد یا حضرت ابراہیم کے عہد سے عمرو بن لحی کے زمانہ تک سب لوگ توحید پر تھے۔

یا ایک امت سے مراد ہے گمراہی پر سب کا اتفاق۔ مطلب یہ کہ زمانۂ فترۃ (انقطاع رسالت) میں سب لوگ گمراہ تھے۔

فاختلفوا پس ان میں (نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے) اختلاف ہوگیا (ان کے فرقے بن گئے) یا پیغمبروں کی بعثت کی وجہ سے گمراہ جماعت میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ پیغمبر وں کا متبع اور دوسرا گروہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والا۔

ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون۔ اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ‘ اس کا قطعی فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ کلمۂ سابقہ سے مراد ہے اللہ کا وہ ازلی فیصلہ کہ ہر امت کی ایک میعاد زندگی مقرر ہے۔ کلبی نے کہا : کلمۂ سابقہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے اس امت کو ڈھیل دینے اور دنیوی عذاب سے ہلاک نہ کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ یعنی دنیا میں عذاب نازل کردیا جاتا اور تکذیب کرنے والوں کو فوراً ہلاک کردیا جاتا ‘ یہی ان کے اختلاف کا فیصلہ ہوجاتا۔ حسن نے کہا : اللہ کا ازلی فیصلہ ہوچکا تھا کہ قیامت سے پہلے دنیا میں عذاب وثواب کی شکل میں ان کے اختلاف کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ دنیا میں ہی جنت یا دوزخ میں داخل کردیا جائے بلکہ اللہ کی طرف سے جنت و دوزخ میں داخلہ کا وقت روز قیامت کو مقرر کردیا گیا ہے۔