Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:22

10:22
هو الذي يسيركم في البر والبحر حتى اذا كنتم في الفلك وجرين بهم بريح طيبة وفرحوا بها جاءتها ريح عاصف وجاءهم الموج من كل مكان وظنوا انهم احيط بهم دعوا الله مخلصين له الدين لين انجيتنا من هاذه لنكونن من الشاكرين ٢٢
هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍۢ طَيِّبَةٍۢ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌۭ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍۢ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَـٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّـٰكِرِينَ ٢٢
هُوَ
ٱلَّذِي
يُسَيِّرُكُمۡ
فِي
ٱلۡبَرِّ
وَٱلۡبَحۡرِۖ
حَتَّىٰٓ
إِذَا
كُنتُمۡ
فِي
ٱلۡفُلۡكِ
وَجَرَيۡنَ
بِهِم
بِرِيحٖ
طَيِّبَةٖ
وَفَرِحُواْ
بِهَا
جَآءَتۡهَا
رِيحٌ
عَاصِفٞ
وَجَآءَهُمُ
ٱلۡمَوۡجُ
مِن
كُلِّ
مَكَانٖ
وَظَنُّوٓاْ
أَنَّهُمۡ
أُحِيطَ
بِهِمۡ
دَعَوُاْ
ٱللَّهَ
مُخۡلِصِينَ
لَهُ
ٱلدِّينَ
لَئِنۡ
أَنجَيۡتَنَا
مِنۡ
هَٰذِهِۦ
لَنَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلشَّٰكِرِينَ
٢٢
かれこそはあなたがたを陸に,また海に旅をさせられる御方である。それであなたがたが船に乗る時,それが順風に乗って航行すれば,かれらはそれで喜ぶ。暴風が襲うと,大波が四方から押し寄せ,かれらはもうこれまでだと観念して,アッラーに向かって,信心を尽くして祈る。 「あなたが,もしわたしたちをこれから救い下されば,必ず感謝を捧げる者になります。」

— Ryoichi Mita

(Allah), chính Ngài là Đấng làm cho các ngươi có thể đi lại trên đất liền và ngoài biển cả và khi các ngươi ở trên tàu. Con tàu đưa họ vượt trùng dương với làn gió nhẹ, họ vui mừng với chuyến đi. Bỗng một cơn cuồng phong nổi lên, những làn sóng (khổng lồ) từ khắp nơi ập đến, họ nghĩ mình sẽ bị chết chìm trong trận giông tố này, họ liền chân thành khấn vái Allah: “Nếu Ngài cứu bầy tôi khỏi đại nạn này, chắc chắn bầy tôi sẽ là những người biết ơn Ngài.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر اللہ وہی ہے جو خشکی اور سمندر میں تم کو چلاتا ہے۔ یعنی تم کو سفر پر آمادہ کرتا اور چلنے کی طاقت دیتا ہے۔

حتی اذا کنتم فی الفلک یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (اور جہازوں) میں ہوتے ہو۔ فُلک کا استعمال ایک

کیلئے بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ کیلئے بھی (گویا یہ لفظ واحد بھی ہے اور جمع بھی) اس آیت میں جمع کا معنی مراد ہے کیونکہ آئندہ فقرہ میں جمع کی ضمیر اس لفظ کی طرف راجع کی گئی ہے۔

وجرین بھم اور کشتیاں (یا جہاز) اپنی سواریوں کو لے کر چلتے ہیں۔ کنتم میں خطاب ہے اور بھم میں ضمیر غائب ہے۔

عبارت کی یہ رنگینی کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے اختیار کی گئی۔ ھِمْ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ تذکرہ مخاطبین کا نہیں ‘ دوسرے لوگوں کا ہے جن کی حالت تعجب انگیز ہے۔

بریح طیبۃ نرم رفتار منزل تک پہنچانے والی ہوا کے ساتھ۔

وفرحوا بھا اور خوش رفتار ہوا کی وجہ سے وہ خوش ہوتے ہیں۔

جآء ھا ریح عاصف تو (کشتیوں پر) آجاتی ہے آندھی ‘ یعنی سخت طوفان۔

وجآء ھم الموج من کل مکان اور ہر جگہ (یا ہر طرف) سے ان پر (طوفانی) موجیں آجاتی ہیں۔

وظنوا انھم احیط بھم اور ان کا غالب گمان ہوجاتا ہے کہ ہر طرف سے وہ موجوں اور تباہیوں سے گھر گئے ‘ بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں رہا۔ مستقبل میں ہلاک ہوجانے کے قرائن ہوتے ہیں اور قرائن سے غالب گمان ہی ہو سکتا ہے ‘ یقین نہیں پیدا ہوتا ‘ اسلئے ظنوا فرمایا۔

دعوا اللہ مخلصین لہ الدین اس وقت سب خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ یعنی خلوص دل کے ساتھ اللہ سے دعا کرتے ہیں ‘ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں پکارتے۔ عرب کے مشرک بھی سخت مصیبت پڑنے پر اللہ ہی کو پکارتے تھے۔

لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ اگر تو ہم کو اس طوفان سے بچا لے گا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔