Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:23

10:23
فلما انجاهم اذا هم يبغون في الارض بغير الحق يا ايها الناس انما بغيكم على انفسكم متاع الحياة الدنيا ثم الينا مرجعكم فننبيكم بما كنتم تعملون ٢٣
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٢٣
فَلَمَّآ
أَنجَىٰهُمۡ
إِذَا
هُمۡ
يَبۡغُونَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
بِغَيۡرِ
ٱلۡحَقِّۗ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
إِنَّمَا
بَغۡيُكُمۡ
عَلَىٰٓ
أَنفُسِكُمۖ
مَّتَٰعَ
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَاۖ
ثُمَّ
إِلَيۡنَا
مَرۡجِعُكُمۡ
فَنُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٢٣
だがかれが救助してみると,見よ,かれらは地上において正義を侮って不義を行う。人びとよ,あなたがたの反逆は只自分自身の魂を害し,現世の生活で享楽を得るだけであるが,あなたがたはすぐにわれに帰るのである。その時われは,あなたがたの行ったことを告げ知らせるであろう。

— Ryoichi Mita

Nhưng sau khi Ngài cứu họ (khỏi cơn nguy nạn) thì họ lại gieo rắc tội lỗi trên trái đất bất chấp công lý. Hỡi nhân loại, thật ra tội lỗi đó chỉ hại bản thân các ngươi thôi, (đó chỉ là) sự hưởng thụ tạm bợ của đời sống thế tục, rồi đây các ngươi sẽ trở về trình diện TA. Lúc đó, TA sẽ cho các ngươi biết về mọi thứ mà các ngươi đã từng làm.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

فلما انجھم اذاھم یبغون فی الارض بغیر الحق پھر جب اللہ ان کو اس مہلکہ سے بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ اطراف زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اللہ جب ان کی دعا قبول کرلیتا ہے اور طوفان سے رہائی دے دیتا ہے تو یکدم وہ حدود فساد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اِذَامفاجات کیلئے ہے اور بغی سے مراد ہے اباحت کی حدود سے نکل کر فساد کی طرف بڑھنا۔ بغیر الحق کے لفظ سے یبغون کے مفہوم کی تاکید ہو رہی ہے کیونکہ فساد تو ہوتا ہی ناحق ہے۔

شبہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی کافروں کی بستیوں کو تباہ کرتے ‘ ان کی کھیتیوں کو اجاڑتے اور باغوں کو ویران کرتے۔ یہ بھی تو فساد ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ (فساد نما) حرکات جو مسلمان سے سرزد ہوتی ہیں ‘ تخریب کیلئے نہیں ہیں بلکہ ان کی غرض تعمیر اور اصلاح ہوتی ہے۔ ایسا اللہ کے حکم سے کیا جاتا ہے ‘ حدود اباحت سے تجاوز نہیں کیا جاتا۔

یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم اے لوگو ! (سن لو) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال (جان) ہونے والی ہے۔ ظلم کا برا نتیجہ تمہاری ہی طرف لوٹتا ہے۔ ترمذی و ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : حسن سلوک اور اقربا پروری کا اچھا نتیجہ ہر بھلائی سے جلد مل جاتا ہے اور ظلم و قطع رحم کا برا نتیجہ ہر برائی کے نتیجے سے پہلے آجاتا ہے۔ ابو الشیخ ‘ خطیب اور ابن مردویہ نے تفسیر میں حضرت انس کی روایت سے بیان کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ تین چیزیں اپنے کرنے والے پر ہی لوٹ پڑتی ہیں : ظلم ‘ فریب ‘ دغا۔

ابن لالی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر پہاڑ ‘ پہاڑ پر ظلم کرے تو ظلم کرنے والا (پہاڑ) پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے گا۔

متاع الحیوۃ الدنیا زندگی میں چندے اس سے حظ اٹھا رہے ہو ‘ یعنی عارضی اور فنا پذیر ہے۔ متاع الحیٰوۃ فعل محذوف کا مفعول ہے یا بغیکا۔

ثم الینا مرجعکم پھر (مرنے کے بعد یا قیامت کے دن) تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہوگی۔

فننبئکم بما کنتم تعملون۔ پھر تمہارے اعمال کا بدلہ دے کر ہم تم کو آگاہ کردیں گے (کہ یہ بدلہ فلاں عمل کا ہے) ۔