Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:23

10:23
فلما انجاهم اذا هم يبغون في الارض بغير الحق يا ايها الناس انما بغيكم على انفسكم متاع الحياة الدنيا ثم الينا مرجعكم فننبيكم بما كنتم تعملون ٢٣
فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَـٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٢٣
فَلَمَّآ
أَنجَىٰهُمۡ
إِذَا
هُمۡ
يَبۡغُونَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
بِغَيۡرِ
ٱلۡحَقِّۗ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّاسُ
إِنَّمَا
بَغۡيُكُمۡ
عَلَىٰٓ
أَنفُسِكُمۖ
مَّتَٰعَ
ٱلۡحَيَوٰةِ
ٱلدُّنۡيَاۖ
ثُمَّ
إِلَيۡنَا
مَرۡجِعُكُمۡ
فَنُنَبِّئُكُم
بِمَا
كُنتُمۡ
تَعۡمَلُونَ
٢٣
だがかれが救助してみると,見よ,かれらは地上において正義を侮って不義を行う。人びとよ,あなたがたの反逆は只自分自身の魂を害し,現世の生活で享楽を得るだけであるが,あなたがたはすぐにわれに帰るのである。その時われは,あなたがたの行ったことを告げ知らせるであろう。

— Ryoichi Mita

Nhưng sau khi Ngài cứu họ (khỏi cơn nguy nạn) thì họ lại gieo rắc tội lỗi trên trái đất bất chấp công lý. Hỡi nhân loại, thật ra tội lỗi đó chỉ hại bản thân các ngươi thôi, (đó chỉ là) sự hưởng thụ tạm bợ của đời sống thế tục, rồi đây các ngươi sẽ trở về trình diện TA. Lúc đó, TA sẽ cho các ngươi biết về mọi thứ mà các ngươi đã từng làm.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 10:22 đến 10:23

انسان ایک بے حد حساس وجود ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان پر جب تکلیف کا کوئی لمحہ آتا ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ فکر کے لمحات میں آدمی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتاہے جس کا اعتراف کرنے کے لیے وہ بے فکری کے لمحات میں تیار نہ ہوتا تھا۔

اس کی ایک مثال سمندر کا سفر ہے۔ سمندر میں سکون ہو اور کشتی منزل کی طرف رواں ہو تو اس کے مسافروں کے لیے یہ بڑا خوش گوار لمحہ ہوتاہے۔ اس وقت ان کے اندر ایک جھوٹا اعتماد پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا معاملہ درست ہے، اب اس کو کوئی بگاڑنے والا نہیں۔

اس کے بعد سمندری ہوائیں ا ٹھتی ہیں۔ پہاڑ جیسی موجیں مسافروں کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں۔ ان کے درمیان بڑے سے بڑا جہاز بھی معمولی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ اب ہلاکت کے سوا دوسرا کوئی انجام نہیں۔ اس وقت خدا کے منکرخدا کا اقرار کرلیتے ہیں۔ دیوتاؤں کو پوجنے والے خدائے واحد کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ اپنی قوت اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرنے والے ہر دوسری چیز کو چھوڑ کر صرف خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ یہ ایک تجرباتی ثبوت ہے کہ توحید ایک فطری عقیدہ ہے۔ توحید کے سوا دوسرے تمام عقیدے بالکل بے بنیاد ہیں۔

یہ تجربہ بتاتا ہے کہ خدا کو نہ ماننے کے لیے آدمی خواہ کتنا ہی فلسفہ پیش کرے، حقیقۃً اس قسم کی تمام باتیں بے فکری کی نظریہ سازی ہیں۔ انسان اگر جانے کہ دنیا کے مواقع محض وقتی طورپر اس کو امتحان کے لیے ديے گئےہیں تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے۔ اس کے ذہن سے تمام مصنوعی دیواریں گر جائیں اور ایک خدا کو ماننے کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ نہ رہے۔

وہ وقت آنے والا ہے جب انسان خدا کے جلال کو دیکھ کر کانپ اٹھے اور تمام خدائی باتوں کا اقرار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مگر عقل مند وہ ہے جو موجودہ زندگی کے تجربات میںآنے والی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھ لے اور آج ہی اس بات کو مان لے جس کو وہ کل ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر کل کا ماننا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔