Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:28

10:28
ويوم نحشرهم جميعا ثم نقول للذين اشركوا مكانكم انتم وشركاوكم فزيلنا بينهم وقال شركاوهم ما كنتم ايانا تعبدون ٢٨
وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَآؤُكُمْ ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ ۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمْ إِيَّانَا تَعْبُدُونَ ٢٨
وَيَوۡمَ
نَحۡشُرُهُمۡ
جَمِيعٗا
ثُمَّ
نَقُولُ
لِلَّذِينَ
أَشۡرَكُواْ
مَكَانَكُمۡ
أَنتُمۡ
وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ
فَزَيَّلۡنَا
بَيۡنَهُمۡۖ
وَقَالَ
شُرَكَآؤُهُم
مَّا
كُنتُمۡ
إِيَّانَا
تَعۡبُدُونَ
٢٨
その日,われは一斉にかれらを招集する。その時われは,多神を崇めた者たちに言うであろう。「あなたがたそしてあなたがたの仲間は,そこに控えていなさい。」それからわれは一人一人を引き離す。その際,かれらの立てていた神々は言う。「あなたがたが拝したのは,わたしたちではなかった。

— Ryoichi Mita

Vào Ngày mà TA sẽ triệu tập tất cả (loài người), rồi TA phán với những kẻ đa thần: “Các ngươi và thần linh mà các ngươi tổ hợp hãy ở yên vị trí của mình.” Sau đó, TA sẽ tách chúng ra và các thần linh của chúng sẽ nói: “Các ngươi không từng thờ phượng bọn ta.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 10:28 đến 10:29

ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔

ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔

فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔

وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔

معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے :

فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔