— Ryoichi Mita
— Ruwwad Center
ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔
وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔
ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔
ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ مَوْلٰی لَھُمُ میں مولیٰ کا معنی ہے مددگار اور حمایتی۔
وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور جو معبود انہوں نے (از خود) تراش رکھے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے ‘ کھو جائیں گے (کوئی بھی ان کا ساتھی نہ ہوگا) یَفْتَرُوْنَکا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو شفیع سمجھے ہوئے تھے ‘ یا ان معبودیت کے مدعی تھے۔