Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:50

10:50
قل ارايتم ان اتاكم عذابه بياتا او نهارا ماذا يستعجل منه المجرمون ٥٠
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُهُۥ بَيَـٰتًا أَوْ نَهَارًۭا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ ٥٠
قُلۡ
أَرَءَيۡتُمۡ
إِنۡ
أَتَىٰكُمۡ
عَذَابُهُۥ
بَيَٰتًا
أَوۡ
نَهَارٗا
مَّاذَا
يَسۡتَعۡجِلُ
مِنۡهُ
ٱلۡمُجۡرِمُونَ
٥٠
言ってやるがいい。「あなたがたは考えないのか,かれの懲罰は夜でも昼でも,あなたがたに下るのであろ。罪深い者たちが急ぐのは,そのどの(懲罰)であるのか。」

— Ryoichi Mita

Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nói với chúng: “Các ngươi hãy nghĩ xem, nếu (Allah) ban hình phạt xuống các ngươi vào ban đêm hoặc ban ngày thì hình phạt nào sẽ là cái mà những tên tội lỗi thúc giục nó mau đến?!”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 10:48 đến 10:52

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔

اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔

کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔

زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔