Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:90

10:90
۞ وجاوزنا ببني اسراييل البحر فاتبعهم فرعون وجنوده بغيا وعدوا حتى اذا ادركه الغرق قال امنت انه لا الاه الا الذي امنت به بنو اسراييل وانا من المسلمين ٩٠
۞ وَجَـٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱلْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُۥ بَغْيًۭا وَعَدْوًا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَدْرَكَهُ ٱلْغَرَقُ قَالَ ءَامَنتُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱلَّذِىٓ ءَامَنَتْ بِهِۦ بَنُوٓا۟ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَنَا۠ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ٩٠
۞ وَجَٰوَزۡنَا
بِبَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
ٱلۡبَحۡرَ
فَأَتۡبَعَهُمۡ
فِرۡعَوۡنُ
وَجُنُودُهُۥ
بَغۡيٗا
وَعَدۡوًاۖ
حَتَّىٰٓ
إِذَآ
أَدۡرَكَهُ
ٱلۡغَرَقُ
قَالَ
ءَامَنتُ
أَنَّهُۥ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
ٱلَّذِيٓ
ءَامَنَتۡ
بِهِۦ
بَنُوٓاْ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
وَأَنَا۠
مِنَ
ٱلۡمُسۡلِمِينَ
٩٠
われは,イスラエルの子孫に海を渡らせ,フィルアウンとその軍勢は,暴虐と敵意に満ちてかれらを追跡した。溺れ死にそうになった時,かれ(フィルアウン)は言った。「わたしは信仰いたします。イスラエルの子孫が信仰するかれの外に,神はありません。わたしは服従,帰依する者です。」

— Ryoichi Mita

TA đã đưa dân Israel băng qua biển (Hồng Hải), Pha-ra-ông và quân lính của hắn truy đuổi họ với lòng đầy câm phẫn và hận thù. Rồi đến khi (Pha-ra-ông) bị nhấn chìm dưới biển thì hắn mới nói: “Bề tôi đã tin rằng quả thật không có Thượng Đế nào ngoài Đấng mà dân Israel đã tin, và bề tôi xin là một người Muslim (thần phục Ngài).”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وجاوزنا ببنی اسراء یل البحر اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کرا دیا۔ یعنی عبور کرا کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ پانی پھٹ کر ادھر ادھر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم والے (خشک زمین پر چل کر) پار نکل گئے۔

فاتبعھم فرعون و جنودہ بنی اسرائیل کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر بھی جا پہنچا۔ تَبِعَاور اَتْبَعَ جا پہنچا ‘ پیچھے سے چلا اور اگلے لوگوں سے جا کر مل گیا۔ اِتَّبَعَ (باب افتعال) پیروی کی۔ بعض نے کہا : اَتْبَعَ (باب افعال) اور اِتَّبَعَ (باب افتعال) دونوں ہم معنی ہیں۔

بغیًا وعدوا ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے۔

بعض نے کہا : بغی سے مراد ہے قول میں زیادتی اور عدوًاسے مراد ہے فعل میں زیادتی۔ غرض فرعون لشکر کو لے کر جب دریا کے کنارے پہنچا تو اندر گھسنے سے سب کو ڈر لگا مگر (غیب سے انسانی شکل بنا کر) حضرت جبرئیل گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب سے آگے پانی میں گھس پڑے۔ گھوڑی کے پیچھے فوج کے گھوڑے بھی دریا میں داخل ہوگئے۔ جب آخری آدمی تک دریا میں گھس گیا اوّل ترین آدمی نے دوسرے کنارہ سے نکلنے کا ارادہ کرلیا تو یکدم پانی برابر ہوگیا اور سب کے اوپر آگیا۔

حتی اذا ادر کہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل وانا من المسلمین۔ یہاں تک کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو بولا : مجھے یقین ہوگیا کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں جس کو بنی اسرائیل مانتے ہیں اور میں (اس کے) فرمانبراروں میں سے ہوں۔ حضرت جبرئیل نے فوراً اس کے منہ میں کیچڑ بھر دی اور توبہ قبول ہونے سے پہلے وہ مر گیا۔ جب قبول توبہ کا وقت تھا تو بدبخت منہ موڑے رہا اور جب قبول توبہ کا وقت جاتا رہا تو پرزور توبہ کی (جس کا کوئی نتیجہ نہ ہوا) ۔