Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yunus 10:93

10:93
ولقد بوانا بني اسراييل مبوا صدق ورزقناهم من الطيبات فما اختلفوا حتى جاءهم العلم ان ربك يقضي بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون ٩٣
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍۢ وَرَزَقْنَـٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَـٰتِ فَمَا ٱخْتَلَفُوا۟ حَتَّىٰ جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٩٣
وَلَقَدۡ
بَوَّأۡنَا
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
مُبَوَّأَ
صِدۡقٖ
وَرَزَقۡنَٰهُم
مِّنَ
ٱلطَّيِّبَٰتِ
فَمَا
ٱخۡتَلَفُواْ
حَتَّىٰ
جَآءَهُمُ
ٱلۡعِلۡمُۚ
إِنَّ
رَبَّكَ
يَقۡضِي
بَيۡنَهُمۡ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
فِيمَا
كَانُواْ
فِيهِ
يَخۡتَلِفُونَ
٩٣
われは,イスラエルの子孫に安全な居住の地を定め,凡ての良いものを授けた。かれらに(悪い)知識が来るまでは意見の相異はなかった。本当にあなたの主は,審判の日にかれらが争っていたことに就いて,かれらの間を裁決されるであろう。

— Ryoichi Mita

Quả thật, TA đã định cư dân Israel tại một nơi tốt lành (của vùng đất Sham hồng phúc) và ban phát cho họ bổng lộc tốt sạch. Họ đã không bất đồng nhau mãi đến khi nguồn kiến thức (Qur’an) đến với họ (xác nhận lại sứ mạng của Muhammad đã được nhắc đến trong Tawrah). Rồi đây, vào Ngày Phán Xét, Thượng Đế của Ngươi (Muhammad) sẽ phân xử giữa họ về những điều mà họ đã từng tranh chấp và bất đồng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ولقد بوانا بنی اسراء یل مبوا صدق اور ہم نے بنی اسرائیل کو سچائی کی جگہ رہنے کو دی (یعنی اچھے مقام میں ٹھہرنے اور رہنے کا ٹھکانا عطا کیا) مُبَوَّاَ صِدْقٍسے مراد ہے اچھی جگہ ‘ یعنی مصر یا اردن اور فلسطین۔ یہ وہی پاک سرزمین تھی جس کا حضرت ابراہیم اور آپ کی نسل کو عطا کرنا اللہ نے لکھ دیا تھا۔ ضحاک کے نزدیک مصر اور شام مراد ہیں۔

ورزقنھم من الطیبٰت اور ہم نے ان کو لذیذ چیزیں عطا کیں۔

فما اختلفوا پس بنی اسرائیل نے اختلاف نہیں کیا۔ یعنی رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں جو بنی اسرائیل تھے ‘ انہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت سے پہلے نبی آخر الزماں کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا تھا۔ سب متفق تھے کہ جن صفات کا تذکرہ توریت میں ہے ‘ ان کا حامل اللہ کا رسول برحق ہوگا۔ لوگوں کو وہ بشارت بھی دیتے تھے کہ اللہ کے رسول برحق کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ وہ لڑائی میں کافروں پر فتحیاب ہونے کی دعا بھی نبی آخر الزماں کے طفیل سے مانگتے تھے۔

حتی جاء ھم العلم یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔ یعنی وہ شخص آگیا جس کی صفات کو وہ جانتے تھے۔ اس سے مراد ہے رسول اللہ (ﷺ) کی شخصیت مبارکہ۔ اس جگہ علم بمعنی معلوم ہے ‘ جیسے خلق بمعنی مخلوق۔ اللہ نے فرمایا ہے : ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ یا یہ معنی ہے کہ جب بنی اسرائیل کو علم ہوگیا کہ محمد (ﷺ) انہی صفات کے حامل ہیں جن کا ذکر توریت میں آیا ہے اور آپ کے معجزات سے بھی ان کو واقفیت ہوگئی تو اس وقت آپس میں دو فریق بن گئے۔ کچھ ایمان لے ائے اور دوسرے فریق نے محض عناد و حسد کی وجہ سے نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔

ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون۔ جس مسئلہ میں یہ اختلاف کرتے ہیں قیامت کے دن اللہ اس کا فیصلہ کر دے گا اور ان کے باہمی اختلاف کو چکا دے گا۔ اہل حق کو اہل باطل سے الگ کر دے گا۔ اوّل کو عذاب سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے کو ہلاک کر دے گا۔