Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yusuf 12:106

12:106
وما يومن اكثرهم بالله الا وهم مشركون ١٠٦
وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِكُونَ ١٠٦
وَمَا
يُؤۡمِنُ
أَكۡثَرُهُم
بِٱللَّهِ
إِلَّا
وَهُم
مُّشۡرِكُونَ
١٠٦
かれらの多くは,アッラーを多神の1つとしてしか信仰しない。

— Ryoichi Mita

Đa số họ đã không có đức tin nơi Allah mà chỉ toàn là những kẻ đa thần.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 12:105 đến 12:108

حق کے ظہور کے بعد جو لوگ اس کو نہ مانیں وہ اپنے انکار کو ہمیشہ اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ جو دلیل مطلوب تھی وہ دلیل حق کی طرف سے ان کے سامنے نہیںآئی۔ اگر ایسی دلیل ہوتی تو وہ اس کو ضرور مان لیتے۔ گویا ان کے اعراض یا انکار کا سبب ان کے باہر ہے، نہ کہ ان کے اندر۔

مگر حقیقت حال ا سکے برعکس ہے۔ حق اتنا واضح ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو زمین وآسمان کی تمام نشانیاں اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ وہ ساری کائنات میں سب سے زیادہ ثابت شدہ چیز ہوتا ہے ۔ مگر حق کو پانے کے لیے اصل ضرورت دیکھنے والی آنکھ اور عبرت پکڑنے والے دماغ کی ہے۔ اور یہی چیز منکرین کے یہاں موجود نہیں ہوتی۔

حق کے مقابلہ میں آدمی جب سرکش دکھائی دیتا ہے تو اکثر حالات میں اس کی وجہ ’’شرک‘‘ ہوتا ہے۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کو مانتے ہوئے انھوںنے کچھ اورزندہ یا مُردہ ہستیاں فرض کر رکھی ہیں جن پر وہ اپنا اعتماد قائم كيے ہوئے ہیں، جن کو وہ بڑائی کا مقام دیتے ہیں۔ اس طرح ہر ایک نے خدا کے سوا کچھ ’’بڑے‘‘ بنا رکھے ہیں۔ وہ انھیں بڑوں کے بھروسہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ خدا کے یہاں سب چھوٹے ہیں۔ وہاں کسی کو جو چیز بچائے گی وہ اس کا ذاتی عمل ہے، نہ کہ مفروضہ بڑوں کی بڑائی۔

پیغمبر کا کام ایک اللہ کی طرف بلانا ہے۔ یہی اس کا مشن ہے ۔ اس مشن کو اس نے بصیرت کے طورپر اختیار کیا ہے، نہ کہ تقلید کے طورپر۔ گویا پیغمبرانہ دعوت وہ دعوت ہے جو انسان کو ایک خدا سے جوڑنے کی دعوت ہو اور جس کی صداقت داعی کے اوپر اتنی کھل چکی ہو کہ وہ اس کے لیے بصیرت اور معرفت بن جائے۔ اسی طرح پیغمبر کے پیرو وہ لوگ ہیں جو حق کو بصیرت کی سطح پر پائیں اور توحید کی سطح پر اس کا اعلان کریں۔

آدمی اپنے وقتی اطمینان کو مستقل اطمینان سمجھ لیتاہے۔ حالانکہ کسی کے پاس اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی مہلتِ عمر کب تک ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب موت آکر اس کے تمام مزعومات کو باطل کردے گی۔ کب قیامت کا زلزلہ اس کی بنی بنائی دنیا کو الٹ پلٹ دے گا۔ آدمی اپنے آپ کو یقینی انجام کی دنیا میں سمجھتا ہے حالانکہ وہ ہر لمحہ ایک غیر یقینی انجام کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔