Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yusuf 12:111

12:111
لقد كان في قصصهم عبرة لاولي الالباب ما كان حديثا يفترى ولاكن تصديق الذي بين يديه وتفصيل كل شيء وهدى ورحمة لقوم يومنون ١١١
لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌۭ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًۭا يُفْتَرَىٰ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ١١١
لَقَدۡ
كَانَ
فِي
قَصَصِهِمۡ
عِبۡرَةٞ
لِّأُوْلِي
ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ
مَا
كَانَ
حَدِيثٗا
يُفۡتَرَىٰ
وَلَٰكِن
تَصۡدِيقَ
ٱلَّذِي
بَيۡنَ
يَدَيۡهِ
وَتَفۡصِيلَ
كُلِّ
شَيۡءٖ
وَهُدٗى
وَرَحۡمَةٗ
لِّقَوۡمٖ
يُؤۡمِنُونَ
١١١
本当にかれらの物語の中には,思慮ある人びとへの教訓がある。これは作られた事柄ではなく,以前にあったもの(啓典)の確証であり,凡ゆる事象の詳細な解明であり,また信仰する者への導き,慈悲ともなる。

— Ryoichi Mita

Quả thật, trong các câu chuyện của (Yusuf và các Sứ Giả khác) là những bài học cho những người thông hiểu. (Qur’an) không phải là lời bịa đặt mà là một sự xác nhận lại những điều đã xảy ra trước Nó và là một sự trình bày chi tiết (về các giới luật và giáo điều), là một chỉ đạo và hồng ân cho những người có đức tin.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت نمبر 111

ذرا غور کیجئے ، سورة کا آغاز اور اختتام کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح قصے کا آغاز و اختتام بھی باہم ۔۔۔۔ ہیں۔ قصے کے آغاز میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے درمیان بھی عبرت آموزی کی گئی ہے اور اس کے آخر میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں اور مضمون اور موضوع باہم پیوست و ہم آہنگ ہے۔ طرز ادا اور فقرے موزوں ، فنی اعتبار سے قصہ نہایت ہی پرکشش ہے۔ لیکن ان سب خصوصیات کے ساتھ واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور کوئی مبالغہ نہیں ہے۔

یہ قصہ ایک ہی سورة میں پوری طرح بیان ہوجاتا ہے ۔ یک جا پورے کا پورا۔ اس لیے کہ اس قصے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ یکجا ہو۔ کیونکہ واقعات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔ ایک دن کے بعد دوسرا دن آتا ہے۔ ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے ، اس لیے اس سے نتائج صرف اسی صورت میں اخذ کیے جاسکتے تھے کہ قصے کو پوری شکل میں ایک سورة میں دے دیا جائے۔ اگر دوسرے قصص کی طرح اس کے صرف بعض حلقے ہی لائے جاتے تو اس طرح وہ نتائج اخذ نہ ہو سکتے تھے جو مکمل قصہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں دوسرے قصص کا انداز قرآن میں مختلف رہا ہے۔ مثلاً بلقیس یا قصہ تخلیق مریم۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا واقعہ ، کیونکہ یہ ان قصوں کے بعض حلقے اپنی جگہ مکمل حصے اور کڑیاں ہیں اور ان سے ایک مستقل سبق ملتا ہے۔ لیکن قصہ یوسف ایسا ہے کہ اس کو مکمل طور پر ایک ہی نشست میں پڑھنا ضروری ہے اور ابتداء سے انجام تک ایک ہی جگہ اس کا بیان بھی ضروری ہے۔

نحن نقص علیک ۔۔۔۔۔ الغفلین (12 : 3) “ ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرائے میں واقعات و حقائق (قصص) تم سے بیان کرتے ہیں ورنہ اس سے پہلے تم بالکل بیخبر تھے ”۔