Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yusuf 12:22

12:22
ولما بلغ اشده اتيناه حكما وعلما وكذالك نجزي المحسنين ٢٢
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ٢٢
وَلَمَّا
بَلَغَ
أَشُدَّهُۥٓ
ءَاتَيۡنَٰهُ
حُكۡمٗا
وَعِلۡمٗاۚ
وَكَذَٰلِكَ
نَجۡزِي
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
٢٢
かれが成年に達した頃,われは識見と知識とをかれに授けた。このようにわれは正しい行いをする者に報いる。

— Ryoichi Mita

Và khi Yusuf trưởng thành, TA đã ban cho Y sự khôn ngoan và nguồn kiến thức. Đó là cách mà TA đãi ngộ những người làm tốt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 12:21 đến 12:22

کہا جاتا ہے کہ مصری حکومت کے ایک افسر (فوطیفار) نے حضرت یوسف کو خریدا۔ معمولی کپڑے میں چھپی ہوئی آپ کی شاندار شخصیت کو اس نے پہچان لیا۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی غلام نہیں ہے بلکہ شریف خاندان کا لڑکا ہے۔ کسی وجہ سے وہ قافلہ کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے اس کو یہاں لاکر بیچ دیا۔ چنانچہ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو غلام کی طرح نہ رکھنا۔ یہ ایک لائق نوجوان معلوم ہوتاہے اور اس قابل ہے کہ ہمارے گھر اور جائداد کا انتظام سنبھال لے۔ مزیدیہ کہ فوطیفار بے اولاد تھا اور کسی کو اپنا متبنی بنانا چاہتا تھا۔ اس نے یہ اراده بھی کرلیا کہ اگر واقعی یہ نوجوان اس کی امیدوں کے مطابق نکلا تو وہ اس کو اپنا بیٹا بنالے گا۔

حضرت یوسف جب تقریباً چالیس سال کے ہوئے تو خدا نے ان کو ایک طرف نبوت عطا کی اور دوسری طرف اقتدار۔ ان کو یہ انعام ان کے حسن عمل کی وجہ سے ملا۔ خداکے انعام کا دروازہ ہمیشہ محسنین کے لیے کھلا ہوا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دور نبوت میں کسی کو اس کے حسنِ عمل کے نتیجہ میں نبی بھی بنایا جاسکتا تھا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اس کو صرف وہ انعامات ملیں گے جو نبوت کے علاوہ ہیں۔