Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yusuf 12:25

12:25
واستبقا الباب وقدت قميصه من دبر والفيا سيدها لدى الباب قالت ما جزاء من اراد باهلك سوءا الا ان يسجن او عذاب اليم ٢٥
وَٱسْتَبَقَا ٱلْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٍۢ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلْبَابِ ۚ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٢٥
وَٱسۡتَبَقَا
ٱلۡبَابَ
وَقَدَّتۡ
قَمِيصَهُۥ
مِن
دُبُرٖ
وَأَلۡفَيَا
سَيِّدَهَا
لَدَا
ٱلۡبَابِۚ
قَالَتۡ
مَا
جَزَآءُ
مَنۡ
أَرَادَ
بِأَهۡلِكَ
سُوٓءًا
إِلَّآ
أَن
يُسۡجَنَ
أَوۡ
عَذَابٌ
أَلِيمٞ
٢٥
その時両人は戸の方で相競い,かの女は後ろからかれの服を引き裂き,かれら両人は,戸口でかの女の夫に出会った。かの女は言った。「あなたの家族(妻)に悪事を行おうとした者には,投獄か痛ましい懲罰の外にどんな応報がありましょう。」

— Ryoichi Mita

Cả hai cùng chạy ra cửa (Yusuf thì muốn thoát thân, còn người phụ nữ kia thì muốn ngăn Y lại). Nữ ta đã kéo rách áo của (Yusuf) từ sau lưng. Cả hai cùng giáp mặt người chồng của nữ ta tại cửa, (lúc đó) nữ ta liền nói: “Đâu là hình phạt dành cho kẻ có ý định xấu với vợ của chàng? Hoặc là hắn phải vào tù hoặc là hắn phải chịu sự trừng phạt đau đớn!”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وَاسْتَبَقَا الْبَابَ : " آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے " حضرت یوسف نے اپنے آپ کو اس کے چنگل سے آزاد کرنے کے لیے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور یہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی تاکہ ان کو پکڑے کیونکہ یہ ابھی تک جنسی ہیجان میں تھی۔

وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ : " اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص پھاڑ دی " اس کے کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ گئی کیونکہ اس کی کوشش یہ تھی کہ دروازے سے اسے واپس لے جائے۔

وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ : " دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا "

یہاں یہ عورت اب مکمل طور پر بالغ نظری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ صورت حالات ایسی ہے کہ اس میں کسی بھی فریق پر شک کیا جاسکتا ہے ، اس عورت کا جواب حاضر ہے ، یہ کہ وہ فوراً نوجوان پر الزام لگا دیتی ہے۔ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا : عورت کہنے لگی : " کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے ؟۔ لیکن اس کو چونکہ حضرت یوسف سے محبت بھی تھی اور اسے ڈر تھا کہ کہیں اسے قتل ہی نہ کردیا جائے اس لیے خود ہی ہلکی سی سزا تجویز کردیتی ہے۔ اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ اس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے۔۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) فورا اس الزم کی تردید کرتے ہیں کہ خود اس عورت نے انہیں ورغلانے کی کوشش کی۔