Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Yusuf 12:43

12:43
وقال الملك اني ارى سبع بقرات سمان ياكلهن سبع عجاف وسبع سنبلات خضر واخر يابسات يا ايها الملا افتوني في روياي ان كنتم للرويا تعبرون ٤٣
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ إِنِّىٓ أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَٰتٍۢ سِمَانٍۢ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌۭ وَسَبْعَ سُنۢبُلَـٰتٍ خُضْرٍۢ وَأُخَرَ يَابِسَـٰتٍۢ ۖ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَأُ أَفْتُونِى فِى رُءْيَـٰىَ إِن كُنتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُونَ ٤٣
وَقَالَ
ٱلۡمَلِكُ
إِنِّيٓ
أَرَىٰ
سَبۡعَ
بَقَرَٰتٖ
سِمَانٖ
يَأۡكُلُهُنَّ
سَبۡعٌ
عِجَافٞ
وَسَبۡعَ
سُنۢبُلَٰتٍ
خُضۡرٖ
وَأُخَرَ
يَابِسَٰتٖۖ
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلۡمَلَأُ
أَفۡتُونِي
فِي
رُءۡيَٰيَ
إِن
كُنتُمۡ
لِلرُّءۡيَا
تَعۡبُرُونَ
٤٣
(エジプトの)王が言った。「わたしは7頭の肥えた牛が,7頭の瘠た牛に食われているのを(夢に)見ました。また穀物の7穂が緑で,他(の7穂)が枯れているのを見ました。首長たちよ,あなたがたが夢を解け得るならば,このわたしの夢を解釈して下さい。」

— Ryoichi Mita

Và (sau đó) nhà vua (của Ai Cập) nói (với quần thần của mình): “Quả thật, (trong giấc mơ) trẫm thấy bảy con bò béo tròn bị bảy con bò gầy nhom ăn thịt, (và trẫm thấy) bảy bông lúa xanh tươi và bảy bông lúa khô héo. Này các khanh, hãy cho trẫm biết ý nghĩa về những điều mà trẫm thấy trong giấc mơ, nếu như các khanh là những người biết giải mã giấc mơ.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 12:43 đến 12:44

منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔

بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم خوابوں پر ایسا ہی تبصرہ کیا کہ یہ خواب ہائے پریشان ہیں اور ان کو ان تاویل کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ ان خوابوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں ہے۔

یہاں تک تین خوابوں کے ساتھ ہمارا واسطہ پڑچکا ہے۔ حضرت یوسف کا خواب ، یوسف کے دو قیدی ساتھیوں کے خواب ، اور با بادشاہ وقت کا خواب۔ ان خوابوں کی تعبیر اور اور ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر اور مصر سے باہر اردگرد کی دنیا میں تعبیر خواب کا فن بہت ہی زوروں پر تھا اور اللہ نے حضرت یوسف کو اپنی جانب سے جو صلاحیت دی ، کہ وہ خوابوں کی تعبیر تک پہنچ جاتے تھے ، وہ ایک ایسا کامل تھا جو روح عصر تھا۔ اور تمام انبیاء کو جو بھی معجزات دیے جاتے ہیں وہ ان کے عصری ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک معجزہ تھا۔ یہاں فی ظلال القرآن می ہم یایس بحثیں نہیں چھیڑتے۔ بہرحال بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر کی تلاش ہے۔