Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: At-Tawbah 9:28

9:28
يا ايها الذين امنوا انما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هاذا وان خفتم عيلة فسوف يغنيكم الله من فضله ان شاء ان الله عليم حكيم ٢٨
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْمُشْرِكُونَ نَجَسٌۭ فَلَا يَقْرَبُوا۟ ٱلْمَسْجِدَ ٱلْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةًۭ فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦٓ إِن شَآءَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٢٨
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
إِنَّمَا
ٱلۡمُشۡرِكُونَ
نَجَسٞ
فَلَا
يَقۡرَبُواْ
ٱلۡمَسۡجِدَ
ٱلۡحَرَامَ
بَعۡدَ
عَامِهِمۡ
هَٰذَاۚ
وَإِنۡ
خِفۡتُمۡ
عَيۡلَةٗ
فَسَوۡفَ
يُغۡنِيكُمُ
ٱللَّهُ
مِن
فَضۡلِهِۦٓ
إِن
شَآءَۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلِيمٌ
حَكِيمٞ
٢٨
あなたがた信仰する者よ,多神教徒は本当に不浄である。だからかれらのこの年以後,かれらを聖なるマスジドに近付かせてはならない。あなたがたがもし貧困を恐れても,アッラーが御好みになれば,その恩恵によって(主は)やがてあなたがたを富ませるであろう。本当にアッラーは全知にして英明であられる。

— Ryoichi Mita

Hỡi những người có đức tin, quả thật những kẻ thờ đa thần là ô uế (bởi sự vô đức tin, lối sống ngu muội và bất công). Vì vậy, chúng không được phép đến gần Masjid Haram kể từ năm sau. Nếu các ngươi sợ nghèo đói thì Allah sẽ ban sự giàu có cho các ngươi từ nguồn thiên lộc nơi Ngài, nếu Ngài muốn. Quả thật, Allah hằng biết và sáng suốt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 9:25 đến 9:28

مسلمانوں کا غلبہ کافروں کو ان کے کفر کی سزا کا اگلا نتیجہ ہے۔ مگر کافروں کا کفر مسلمانوں کے اسلام کی نسبت سے متحقق ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی اسلامیت کھودیں تو کافروں کا کفر کس چیز کے مقابلہ میں ثابت ہوگا اور کس بنیاد پر خدا وہ تفریقي معاملہ کرے گا جو ایک کے ليے انعام بنے اور دوسرے کے ليے سزا۔

رمضان 8ھ؁ميں مسلمانوں نے قریش کو کامیاب طورپر مغلوب کرکے مکہ کو فتح کیا۔ مگر اگلے ہی مہینہ شوال 8ھ ؁ میں ان کو ہوازن وثقیف کے مشرک قبائل کے مقابلہ میں شکست ہوئی، جب کہ فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس ہزار تھی اورہوازن وثقیف سے مقابلہ کے وقت بارہ ہزار۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش سے مقابلہ کے وقت مسلمان صرف اللہ کے بھروسے پر نکلے تھے۔ مگر ہوازن وثقیف کے مقابلہ پر نکلتے ہوئے انھیں یہ ناز ہوگیا کہ اب تو ہم فاتح ِمکہ ہیں ۔ ہمارے ساتھ بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر ہے، آج ہم کو کون شکست دے سکتاہے۔ جب وہ خدا کے اعتماد پر تھے تو انھیں کامیابی ہوئی، جب ان کو اپنی ذات پر اعتماد ہوگیا تو انھیں شکست کا سامناکرنا پڑا۔

اپنی ذات پر بھروسہ آدمی کے اندر گھمنڈ کا جذبہ ابھارتا ہے جس کے نتیجہ میں خارجی حقیقتوں سے بے پروائی پیدا ہوتی ہے۔ وہ نظم کی پابندی میں کوتاہ ہوجاتا ہے۔ وہ بے جا خود اعتمادی کی وجہ سے غیرحقیقت پسندانہ اقدام کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ اس عالم اسباب میں لازمی شکست ہے۔ اس کے برعکس خدا پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت پر بھروسہ ہے۔ اس سے آدمی کے اندر تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ انتہائی حقیقت پسندانہ بن جاتا ہے۔ اور حقیقت پسندی بلا شبہ تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔

ابتداء ً جب یہ حکم آیا کہ حرم میں مشرکوں کا داخلہ بندکردو تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی کیوں کہ غیر زرعی ملک ہونے کی وجہ سے عرب کی اقتصادیات کا انحصار تجارت پر تھا اور تجارت کی بنیاد ہمیشہ مشترکہ تعلقات پر ہوتی ہے۔ مسلمانوں نے سوچا کہ جب حرم میں مشرکین کا آنا بندہوگا تو ان کے ساتھ تجارتی رشتے بھی ٹوٹ جائیں گے۔ مگر ان کی نظر اس امکان پر نہیں گئی کہ آج کے مشرک کل کے مسلمان ہوسکتے ہیں ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ عربوں کے عمومی طورپر اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں دوبارہ نئی صورت سے بحال ہوگئیں ۔ نیز اس ابتدائی قربانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالآخر اسلام ایک بین اقوامی دین بن گیا۔ جو معاشی دروازے مقامی سطح پر بند ہوتے نظر آتے تھے وہ عالمی سطح پر کھل گئے۔