Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Yunus 10:53

10:53
۞ ويستنبيونك احق هو قل اي وربي انه لحق وما انتم بمعجزين ٥٣
۞ وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ٥٣
۞ وَيَسۡتَنۢبِـُٔونَكَ
أَحَقٌّ
هُوَۖ
قُلۡ
إِي
وَرَبِّيٓ
إِنَّهُۥ
لَحَقّٞۖ
وَمَآ
أَنتُم
بِمُعۡجِزِينَ
٥٣
They ask you ˹O Prophet˺, “Is this true?” Say, “Yes, by my Lord! Most certainly it is true! And you will have no escape.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 10:53 to 10:54
مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭

” پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [36-يس:82] ‏ ” یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے “ “۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔

سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» [34-سبأ:3] ‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» [64-التغابن:7] ‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔

«يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [52-الطور:13-16] ‏ ” جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا “۔

صفحہ نمبر3715