登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Isra 17:46

17:46
وجعلنا على قلوبهم اكنة ان يفقهوه وفي اذانهم وقرا واذا ذكرت ربك في القران وحده ولوا على ادبارهم نفورا ٤٦
وَجَعَلْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَن يَفْقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِهِمْ وَقْرًۭا ۚ وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِى ٱلْقُرْءَانِ وَحْدَهُۥ وَلَّوْا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَـٰرِهِمْ نُفُورًۭا ٤٦
وَجَعَلۡنَا
عَلَىٰ
قُلُوبِهِمۡ
أَكِنَّةً
أَن
يَفۡقَهُوهُ
وَفِيٓ
ءَاذَانِهِمۡ
وَقۡرٗاۚ
وَإِذَا
ذَكَرۡتَ
رَبَّكَ
فِي
ٱلۡقُرۡءَانِ
وَحۡدَهُۥ
وَلَّوۡاْ
عَلَىٰٓ
أَدۡبَٰرِهِمۡ
نُفُورٗا
٤٦
我在他们的心上加了许多罩子,以免他们了解《古兰经》;又在他们的耳里造重听,当你在《古兰经》里只提到你的主的时候,他们憎恶地离去。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
17:45至17:46节的经注

یہاں جس چیز کو ’’چھپا ہوا پردہ‘‘ کہا گیا ہے وہ دراصل نفسیاتی پردہ ہے۔ اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ آدمی بطورخود اپنے ذہن میں کسی غیر صداقت کو صداقت کا مقام دے دے۔ ایسے شخص کے سامنے جب ایک ایسا حق آتا ہے جس کے مطابق اس کی مفروضہ صداقتوں کی نفی ہورہی ہو تو ایسی بے آمیز دعوت اس کے لیے ناقابل فہم بن جاتی ہے۔ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کی سمجھ میں نہیںآتا کہ ایسی دعوت بھی سچی دعوت ہوسکتی ہے جس کو ماننے کی صورت میں وہ چیز باطل قرار پائے جس کو اب تک وہ مسلّمہ صداقت سمجھے ہوئے تھا۔ وہ نئی دعوت کے دلائل کا توڑ نہیں کرپاتا۔ تاہم اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا کہ یہی وہ مطلق صداقت ہے جس کو اسے دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ کر مان لینا چاہیے۔

بے آمیز صداقت کا اعلان ہمیشہ دوسری مفروضہ صداقتوں کی نفی کے ہم معنی ہوتاہے۔ اس لیے اس کو سن کر وہ لوگ بپھر اٹھتے ہیں جو اس کے سوا دوسری چیزوں یا شخصیتوں کو بھی عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے ہوں۔ ان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا یقین نہ ہونا انھیں غیر سنجیدہ بنادیتاہے اور غیر سنجیدہ ذہن کے ساتھ کوئی بات سمجھی نہیں جاسکتی۔