登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Isra 17:94

17:94
وما منع الناس ان يومنوا اذ جاءهم الهدى الا ان قالوا ابعث الله بشرا رسولا ٩٤
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤْمِنُوٓا۟ إِذْ جَآءَهُمُ ٱلْهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرًۭا رَّسُولًۭا ٩٤
وَمَا
مَنَعَ
ٱلنَّاسَ
أَن
يُؤۡمِنُوٓاْ
إِذۡ
جَآءَهُمُ
ٱلۡهُدَىٰٓ
إِلَّآ
أَن
قَالُوٓاْ
أَبَعَثَ
ٱللَّهُ
بَشَرٗا
رَّسُولٗا
٩٤
当正道降临众人的时候,妨碍他们信道的只是他们的这句话:难道真主派遣一个凡人来做使者吗?
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
17:94至17:96节的经注

اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔

پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔

موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔