登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Baqarah 2:118

2:118
وقال الذين لا يعلمون لولا يكلمنا الله او تاتينا اية كذالك قال الذين من قبلهم مثل قولهم تشابهت قلوبهم قد بينا الايات لقوم يوقنون ١١٨
وَقَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا ٱللَّهُ أَوْ تَأْتِينَآ ءَايَةٌۭ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَـٰبَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍۢ يُوقِنُونَ ١١٨
وَقَالَ
ٱلَّذِينَ
لَا
يَعۡلَمُونَ
لَوۡلَا
يُكَلِّمُنَا
ٱللَّهُ
أَوۡ
تَأۡتِينَآ
ءَايَةٞۗ
كَذَٰلِكَ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِم
مِّثۡلَ
قَوۡلِهِمۡۘ
تَشَٰبَهَتۡ
قُلُوبُهُمۡۗ
قَدۡ
بَيَّنَّا
ٱلۡأٓيَٰتِ
لِقَوۡمٖ
يُوقِنُونَ
١١٨
无知者说:为甚麽真主不和我们说话呢?为甚麽不有一种迹象降临我们呢?他们之前的人也说过这样的话;他们的心是相似的。我确已为笃信的民众阐明许多迹象了。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
2:118至2:121节的经注

اللہ کے وہ بندے جو اللہ کی طرف سے اس کے دین کا اعلان کرنے کے لیے آئے، ان کو ہر زمانہ میں ایک ہی قسم کے رد عمل سے سابقہ پیش آیا’’اگر تم خدا کے نمائندے ہو تو تمھارے ساتھ دنیا کے خزانے کیوں نہیں‘‘۔یہ شبہ ان لوگوں کو ہوتا جو اپنے دنیا پرستانہ مزاج کی وجہ سے مادی بڑائی کو بڑائی سمجھتے تھے۔ اس ليے وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے میں بھی یہی بڑائی دیکھنا چاہتے تھے۔ جب داعیٔ حق کی زندگی میں ان کو اس قسم کی بڑائی دکھائی نہ دیتی تو وہ اس کا انکار کردیتے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا کہ ایک ’’معمولی آدمی‘‘ کیوں کر وہ شخص ہوسکتا ہے جس کو زمین وآسمان کے مالک نے اپنے پیغام كو انسانوں تك پهنچانے کے لیےچنا ہو۔ اللہ کے ان بندوں کی زندگی اور ان کے کلام میں اللہ اپنی نشانیوں کی صورت میں شامل ہوتا، بالفاظ دیگر معنوی بڑائیاں پوری طرح ان کے ساتھ ہوتیں۔ مگر اس قسم کی چیزیں لوگوں کو نظر نہ آتیں، اس ليے وہ ان کو ’’بڑا‘‘ ماننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتے۔ دلیل اپنی کامل صورت میں موجود ہو کر بھی ان کے ذہن کا جزء نہ بنتی۔ کیوں کہ وہ ان کے کنڈيشنڈ مائنڈکے مطابق نہ ہوتی۔

یہود ونصاریٰ قدیم زمانہ میں آسمانی مذہب کے نمائندے تھے مگر زوال کا شکار ہونے کے بعد دین ان کے لیے ایک گروہی طریقہ ہوکر رہ گیاتھا۔ وہ اپنے گروہ سے وابستہ رہنے کو دین سمجھتے اور گروہ سے الگ ہوجانے کو بے دینی ۔ ان کے گروہ میں شامل ہونا یا نہ ہونا ہی ان کے نزدیک حق اور ناحق کا معیاربن گیا تھا۔ دین جب اپنی بے آمیز صورت میں ان کے سامنے آیا تو ان کا گروہی دین داری کا مزاج اس کو قبول نہ کرسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ بے آمیز دین کو وہی اختیار کرے گا جس نے اپنی فطرت کو زندہ رکھا ہے۔ جن کی فطرت کی روشنی بجھ چکی ہے ان سے کسی قسم کی کوئی امید نہیں۔ دین کو ایسے لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کی خاطر دین کو بدلا نہیں جاسکتا۔