登入
登入
登入
选择语言

经注: An-Nisa 4:141

4:141
الذين يتربصون بكم فان كان لكم فتح من الله قالوا الم نكن معكم وان كان للكافرين نصيب قالوا الم نستحوذ عليكم ونمنعكم من المومنين فالله يحكم بينكم يوم القيامة ولن يجعل الله للكافرين على المومنين سبيلا ١٤١
ٱلَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَـٰفِرِينَ نَصِيبٌۭ قَالُوٓا۟ أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۚ فَٱللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ ٱللَّهُ لِلْكَـٰفِرِينَ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ١٤١
ٱلَّذِينَ
يَتَرَبَّصُونَ
بِكُمۡ
فَإِن
كَانَ
لَكُمۡ
فَتۡحٞ
مِّنَ
ٱللَّهِ
قَالُوٓاْ
أَلَمۡ
نَكُن
مَّعَكُمۡ
وَإِن
كَانَ
لِلۡكَٰفِرِينَ
نَصِيبٞ
قَالُوٓاْ
أَلَمۡ
نَسۡتَحۡوِذۡ
عَلَيۡكُمۡ
وَنَمۡنَعۡكُم
مِّنَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَۚ
فَٱللَّهُ
يَحۡكُمُ
بَيۡنَكُمۡ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۚ
وَلَن
يَجۡعَلَ
ٱللَّهُ
لِلۡكَٰفِرِينَ
عَلَى
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
سَبِيلًا
١٤١
他们是期待你们遭遇灾难的。如果你们获得从真主发出的胜利,他们就说:难道我们没有和你们在共同作战吗?如果不信道者幸而战胜,他们就说:难道我们没有战胜你们,并且使你们得免于信道者的征服吗? 故复活日真主将替你们判决,真主绝不让不信道者对信道的人有任何途径。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
4:140至4:141节的经注

اللہ کی پکار جب بھی کسی انسانی گروہ میں اٹھتی ہے تو اتنی مضبوط بنیادوں پر اٹھتی ہے کہ دلیل کے ذریعہ اس کی کاٹ کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ اس کا مذاق اڑا کر اس کو بے وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اپنے اس رویہ سے بتا رہے ہیں کہ وہ حق کے معاملہ کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے اور جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو اس وقت اس سے بحث کرنا بالکل بے کار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی چپ ہوجائے اور اس وقت کا انتظار کرے جب کہ گفتگو کا موضوع بدل جائے اور مخاطب اس قابل ہوجائے کہ وہ بات کو سن سکے۔ جس مجلس میں خدا کی دعوت کا مذاق اڑایا جائے وہاں بیٹھنا یہ ثابت کرتاہے کہ آدمی حق کے معاملہ میں غیرت مند نہیں۔

منافق اس کی پروا نہیں کرتا کہ اصول پسندی کا تقاضا کیا ہے، بلکہ جس چیز میں فائدہ نظر آئے اس طرف وه جھک جاتاہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حلقہ کے ساتھ جوڑتا ہے جس کا ساتھ دینے میں اس کے دنیوی حوصلے پورے ہوتے ہوں، خواہ وہ اہلِ ایمان کا حلقہ ہو یا غیر اہل ایمان كا۔ وه جس مجلس ميں جاتا هے اس كو خوش كرنے والي باتيں كرتا هے۔ مصلحتوں كي بنا پر كبھي اس كو سچے اهل ايمان کے ساتھ جڑنا پڑے تب بھی وہ دل سے ان کا خیرخواہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ سچے اہلِ ایمان کا وجود کسی معاشرہ میں حق کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ اس لیے جو لوگ جھوٹی دین داری پر کھڑے هوئے ہوں وہ چاہتے ہیںکہ ایسے پیمانے ٹوٹ جائیں جو ان كي دين داري کو مشتبہ ثابت کرنے والے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان کے بدخواہ جو کچھ زور دکھا سکتے ہیں اسی دنیا میں دکھا سکتے ہیں۔ آخرت میں وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔

منافق وہ ہے جو بظاہر دین دار مگر اندر سے بے دین ہو۔ ایسے شخص کا انجام کافر کے ساتھ ہونا بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظاہری دین داری اور کھلی ہوئی بے دینی میں کوئی فرق نہیں۔ کیوں کہ ظاہرکی سطح پر خواہ دونوں مختلف نظر آئیں مگر باطن کی سطح پردونوں ایک ہوتے ہیں۔ اور اللہ کے یہاں اعتبار باطن کا ہے، نہ کہ ظاہر کا۔