登入
登入
登入
选择语言

经注: Sad 38:65

38:65
قل انما انا منذر وما من الاه الا الله الواحد القهار ٦٥
قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ مُنذِرٌۭ ۖ وَمَا مِنْ إِلَـٰهٍ إِلَّا ٱللَّهُ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّارُ ٦٥
قُلۡ
إِنَّمَآ
أَنَا۠
مُنذِرٞۖ
وَمَا
مِنۡ
إِلَٰهٍ
إِلَّا
ٱللَّهُ
ٱلۡوَٰحِدُ
ٱلۡقَهَّارُ
٦٥
你说:我只是一个警告者。除独一至尊的真主外,绝无应受崇拜的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
38:65至38:70节的经注

یہاں جس اختصام (تکرار) کا ذکر ہے وہ وہی ہے جو اگلی آیت میں منقول ہے یعنی آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس کا بحث وتکرار کرنا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان پہلے روز سے آدم کا دشمن بن گیا ہے۔ وہ پرفریب باتوں کے ذریعہ اولاد آدم کو سیدھے راستہ سے بھٹکاتا ہے۔ اس ليے انسان کو چاہيے کہ وہ ہوشیار رہے اور اس سے پوری طرح بچنے کی کوشش کرے۔ اس سلسلہ میں آدمی کی پیدائش کے وقت جو اختصام ہوا اور اس کو قرآن میں بیان کیا گیا وہ سراسر وحی تھا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ملأ اعلیٰ میں موجود نہ تھے کہ ذاتی واقفیت کی بنیاد پر اس کو بیان کرسکتے۔

سب سے اہم خبر انسان کےلیے یہ ہے کہ اس کو زندگی کی اس نوعیت سے آگاہ کیا جائے کہ شیطان ہر لمحہ اس کے پیچھے لگا ہوا ہے، وہ اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں داخل ہو کر اس کو گمراہ کررہا ہے۔ انسان کو چاہيے کہ وہ اس خطرے سے اپنے آپ کو بچائے۔ پیغمبر ایک اعتبار سے اسی ليے آئے کہ انسان کو اس نازک خطرہ سے آگاہ کردیں۔