登入
登入
登入
选择语言

经注: Ali 'Imran 3:181

3:181
لقد سمع الله قول الذين قالوا ان الله فقير ونحن اغنياء سنكتب ما قالوا وقتلهم الانبياء بغير حق ونقول ذوقوا عذاب الحريق ١٨١
لَّقَدْ سَمِعَ ٱللَّهُ قَوْلَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ فَقِيرٌۭ وَنَحْنُ أَغْنِيَآءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا۟ وَقَتْلَهُمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّۢ وَنَقُولُ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ١٨١
لَّقَدۡ
سَمِعَ
ٱللَّهُ
قَوۡلَ
ٱلَّذِينَ
قَالُوٓاْ
إِنَّ
ٱللَّهَ
فَقِيرٞ
وَنَحۡنُ
أَغۡنِيَآءُۘ
سَنَكۡتُبُ
مَا
قَالُواْ
وَقَتۡلَهُمُ
ٱلۡأَنۢبِيَآءَ
بِغَيۡرِ
حَقّٖ
وَنَقُولُ
ذُوقُواْ
عَذَابَ
ٱلۡحَرِيقِ
١٨١
真主确已听见有些人说:真主确是贫穷的,我们确是富足的。我要记录他们所说的话,和他们枉杀众先知的行为。我要说:他们尝试烧灼的刑罚吧。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
3:180至3:185节的经注

ظاہری طور پر آدمی ایک قول دے کر مومن بن جاتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ اس وقت مومن بنتا ہے جب کہ وہ اپنی جان اور اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے دے۔ جان ومال کی قربانی کے بغیر کسی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ آدمی اپنے مال کو اس لیے بچاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے دنیوی مستقبل کا تحفظ کررہا ہے۔ مگر آدمی کا حقیقی مستقبل وہ ہے جو آخرت میں سامنے آنے والا ہے اور آخرت کی دنیا میں ایسا بچایا ہوا مال آدمی کے حق میں صرف وبال ثابت ہوگا۔ جو مال دنیا میں زینت اور فخر کا ذریعہ دکھائی دے رہاہے وہ آخرت میں خداکے حکم سے سانپ کی صورت اختیار کرلے گا جو ابدی طورپر اس کو ڈستارہے۔

جو لوگ قربانی والے دین کو نہیں اپناتے وہ اپنے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مختلف باتیں کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ مال خدا نے ہماری ضرورت کے لیے پیدا کیا ہے۔ پھر کیوں نہ ہم اس کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کریں، اور اس سے اپنے دنیوی آرام کا سامان کریں۔ کبھی ان کی بے حسی ان کو یہاں تک لے جاتی ہے کہ وہ خود داعیٔ حق کو مشتبہ کرنے کے لیے طرح طرح کے شوشے نکالتے ہیں تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ شخص سچا داعی ہی نہیں،جس کا ظہوریہ تقاضا کررہا ہے کہ اپنی زندگی اور اپنے مال کو قربان کرکے اس کا ساتھ دیا جائے۔ اس قسم کے لوگ جو باتیں کہتے ہیں وہ بظاہر دلیل کے روپ میں ہوتی ہیں مگر حقیقۃً وہ ایمانی تقاضوںسے فرار کے لیے ہیں۔ اس لیے خواہ کیسی ہی دلیل پیش کی جائے وہ ا س کو رد کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ الفاظ تلاش کرلیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس بات کو بھول گئے ہیں کہ ان کا آخری انجام موت ہے، اور موت کا مرحلہ سامنے آتے ہی صورت حال بالکل بدل جائے گی۔ موت تمام جھوٹے سہاروں کو باطل کردے گی۔ اس کے بعد آدمی اپنے آپ کو ٹھیک اس مقام پر کھڑا ہوا پائے گا جہاں وہ حقیقۃً تھا، نہ کہ اس مقام پر جہاں وہ اپنے آپ کو ظاہر کررہا تھا — موجودہ دنیا میں کسی کا ترقی کرنا یا موجودہ دنیا میں کسی کا ناکام ہوجانا، دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی سطح کی چیزیں ہیں۔ نہ یہاں کی نعمتیں کسی کے برسر حق ہونے کا ثبوت ہیں، اور نہ کسی کا یہاں مشکلات ومصائب میں مبتلا ہونا، اس کے برسرِ باطل ہونے کا ثبوت۔ کیوں کہ دونوں ہی امتحان کے نقشے ہیں، نہ کہ انجام کی علامتیں۔