登入
登入
登入
选择语言

经注: Ash-Shu'ara 26:118

26:118
فافتح بيني وبينهم فتحا ونجني ومن معي من المومنين ١١٨
فَٱفْتَحْ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ فَتْحًۭا وَنَجِّنِى وَمَن مَّعِىَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١١٨
فَٱفۡتَحۡ
بَيۡنِي
وَبَيۡنَهُمۡ
فَتۡحٗا
وَنَجِّنِي
وَمَن
مَّعِيَ
مِنَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
١١٨
求你在我与他们之间进行裁判,求你拯救我和与我同在一起的信士们。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
26:116至26:122节的经注

حضرت نوح صدیوں تک اپنی قوم کے لوگوں کو حق کی طرف بلاتے رہے۔ مگر انھوںنے آپ کی بات نہ مانی۔ حتی کہ آخر کار انھوں نے فیصلہ کیا کہ سب لوگ مل کر نوح کو پتھر ماریں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور پھر صبح وشام ان کی بات سننے سے نجات مل جائے۔ جب قوم اس حد کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا کہ اب اس قوم کا خاتمہ کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا یہی فیصلہ ہے جو حضرت نوح کی دعا کی شکل میں ظاہر ہوا۔

اللہ کے حکم سے حضرت نوح نے ایک بڑی کشتی بنائی، اس میں حضرت نوح کے تمام ساتھی اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا رکھ لیا گیا۔ اس کےبعد اللہ نے شدید طوفان بھیجا۔ زمین سےپانی ابلنے لگا اور اوپر سے مسلسل بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ کشتی کے سوا ساری زندہ مخلوق فنا ہوگئی۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دنیا میں نجات سچے اہل ایمان کے ليے ہے اور باقی لوگوں کے ليے یہاں ہلاکت کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔