登入
登入
登入
选择语言

经注: Ash-Shu'ara 26:15

26:15
قال كلا فاذهبا باياتنا انا معكم مستمعون ١٥
قَالَ كَلَّا ۖ فَٱذْهَبَا بِـَٔايَـٰتِنَآ ۖ إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ ١٥
قَالَ
كـَلَّاۖ
فَٱذۡهَبَا
بِـَٔايَٰتِنَآۖ
إِنَّا
مَعَكُم
مُّسۡتَمِعُونَ
١٥
主说:绝不如此,你俩带着我的迹象去吧!我确是与你们在一起倾听(你们辩论)的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
26:15至26:19节的经注

خدا جس شخص کو اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرے وہ ہر اعتبار سے خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اسی کے ساتھ اس کے لیے مزید اہتمام یہ کیا جاتاہے کہ اس کو خصوصی نشانیاں دی جاتی ہیں جو اس بات کی صریح علامت ہوتی ہیں کہ اس کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ اس کے باوجودوہ اعتراف نہیں کرتا۔

حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کے سلسلہ میں فرعون سے جو مطالبہ کیا اس کا تفصیلی مطلب کیا تھا، اس کے بارے میں قرآن میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ تورات کا بیان اس سلسلہ میں حسب ذیل ہے

(موسیٰ نے فرعون سے کہا) اب تو ہم کو تین دن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے ليے قربانی کریں (خروج، 3:18 )۔میرےلوگوں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے ليے عید کریں (خروج، 5:1 )۔ تب فرعون نے موسیٰ اور ہارون کو بلوا کر کہا کہ تم جاؤ اور اپنے خدا کے ليے اسی ملک میں قربانی کرو۔ موسیٰ نے کہاایسا کرنا مناسب نہیں ۔کیوں کہ ہم خداوند اپنے خدا کے ليے اس چیز کی قربانی کریںگے، جس سے مصری نفرت رکھتے ہیں۔ سو اگر ہم مصریوں کی آنکھوں کے آگے اس چیز کی قربانی کریں جس سے وہ نفرت رکھتے ہیں تو کیا وہ ہم کو سنگسار نہ کرڈالیںگے۔ پس ہم تین دن کی راہ بیابان میں جاکر خداوند اپنے خدا کے ليے جیسا وہ ہم کو حکم دے گا قربانی کریں گے۔(خروج، 8:25-27 )

بائبل کے بیان سے بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ سفر ہجرت کے ليے نہیں بلکہ تربیت کے ليے تھا۔ مصر میں گائے مقدس مانی جاتی تھی۔ صدیوں کے عمل سے بنی اسرائیل بھی اس سے متاثر ہوگئے تھے۔ اب حضرت موسیٰ نے چاہا کہ بنی اسرائیل کو کچھ دنوں کے ليے مصر کے مشرکانہ ماحول سے باہر لے جائیں اور ان کو آزاد فضا میں رکھ کر ان کی تربیت کریں۔