登入
登入
登入
选择语言

经注: Yunus 10:78

10:78
قالوا اجيتنا لتلفتنا عما وجدنا عليه اباءنا وتكون لكما الكبرياء في الارض وما نحن لكما بمومنين ٧٨
قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ ٧٨
قَالُوٓاْ
أَجِئۡتَنَا
لِتَلۡفِتَنَا
عَمَّا
وَجَدۡنَا
عَلَيۡهِ
ءَابَآءَنَا
وَتَكُونَ
لَكُمَا
ٱلۡكِبۡرِيَآءُ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
وَمَا
نَحۡنُ
لَكُمَا
بِمُؤۡمِنِينَ
٧٨
他们说:你到我们这里来,想使我们抛奔我们的祖先的宗教,而让你们俩称尊于国中吗?我们绝不会归信你们的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
10:75至10:78节的经注

فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے اپنی مجرمانہ ذہنیت کی بناپر موسیٰ اور ہارون کی بات نہیں مانی۔ وہ چیزوں کو دلیل کے معیار سے دیکھنے کے بجائے جاہ واقتدار کے معیار سے دیکھتے تھے۔اس خود ساختہ معیار کے نام پر انھوں نے اپنے کو اونچا اور موسیٰ و ہارون کو نیچا سمجھ لیا۔ ان کی یہ نفسیات ان کے لیے اس حق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئی، جو ان کے نزدیک ایک چھوٹا آدمی ان کے سامنے پیش کررہا تھا۔

حضرت موسیٰ کے استدلال کی زبان جب فرعون کی سمجھ میں نہیں آئی تو آپ نے عصا اور ید ِ بیضا کے معجزات دکھائے ان معجزات کا توڑ فرعون کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ یہ جادو ہے۔ اس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ کے مقابلہ میں اپنی شکست کو ایک جھوٹی توجیہہ میں چھپانے کی کوشش کی۔ اس نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ موسیٰ کامعاملہ حق کا معاملہ نہیں ہے بلکہ جادو کا معاملہ ہے، یہ صحیح ہے کہ جادو اور معجزہ میں کچھ ظاہری مشابہت ہوتی ہے۔ مگر بہت جلد معلوم ہوجاتاہے کہ جادو محض شعبدہ اور کرشمہ تھا۔ اس کے مقابلہ میں معجزہ کو مستقل کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ جادو بالآخر جادو ثابت ہوتاہے اور معجزہ بالآخر معجزہ۔

اس موقع پر فرعون نے لوگوں کو حضرت موسیٰ کی دعوت سے پھیرنے کے لیے دو اور باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ موسیٰ ہم کو ہمارے آبا ئی دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ فرعون کو چاہیے تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کے پیغام کو حق اور ناحق کی اصطلاح میں سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر اس نے اس کو آبائی اور غیر آبائی معیار سے جانچا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حق اور ناحق کے معیار سے دیکھنے میں اپنے آپ کو غلط ماننا پڑتا۔ جب کہ آبائی اور غیر آبائی کی تقسیم میں اپنی روش پر بدستور موجود رہنے کا جواز مل رہا تھا۔

فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ ’’موسیٰ اورہارون اس ملک میں اپنی کبریائی قائم کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ بھی عوام کو بھڑکانے کے ليے محض ایک سیاسی شوشہ تھا، کیوں کہ حضرت موسیٰ نے تو اول مرحلہ میں فرعون کے سامنے یہ بات رکھ دی تھی کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ فرعون کو خدا کا پیغام پہنچائیں اور اس کے بعد بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں چلے جائیں۔ ایسی حالت میں یہ الزام سراسر خلاف واقعہ تھا کہ وہ مصر کي حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔