登入
登入
登入
选择语言

经注: Yusuf 12:15

12:15
فلما ذهبوا به واجمعوا ان يجعلوه في غيابت الجب واوحينا اليه لتنبينهم بامرهم هاذا وهم لا يشعرون ١٥
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَـٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَـٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١٥
فَلَمَّا
ذَهَبُواْ
بِهِۦ
وَأَجۡمَعُوٓاْ
أَن
يَجۡعَلُوهُ
فِي
غَيَٰبَتِ
ٱلۡجُبِّۚ
وَأَوۡحَيۡنَآ
إِلَيۡهِ
لَتُنَبِّئَنَّهُم
بِأَمۡرِهِمۡ
هَٰذَا
وَهُمۡ
لَا
يَشۡعُرُونَ
١٥
当他们把他带走,并且一致决定把他投入井底的时候,我启示他说:将来你必定要把他们这件事,在他们不知不觉的时候,告诉他们。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
12:15至12:18节的经注

حضرت یوسف کا اصل قصہ یقینی طورپر اس سے زیادہ مفصّل ہے جتنا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے، نہ کہ واقعہ نگاری۔ اس لیے وہ صرف ان پہلوؤں کو لیتاہے جو نصیحت اور تذکیر کے لیے مفید ہوں۔ اور بقیہ تمام اجزاء کو حذف کردیتاہے تاکہ تاریخ نگار اس کو مرتب کریں۔

روایات کے مطابق حضرت یوسف تین دن تک اندھے کنوئیں میں رہے۔ انھیں تین دنوں میں غالباً خواب کے ذریعہ آپ کو آپ کا مستقبل دکھایا گیا۔ اس میں آپ نے دیکھا کہ آپ کنویں سے نکلتے ہیں اور پھر عظمت وشان کے ایک اونچے مقام پر پہنچتے ہیں۔ حتی کہ آپ کے اور آپ کے بھائیوں کے درمیان حیثیت کے اعتبار سے اتنا فرق ہوجاتاہے کہ وہ آپ کو دیکھتے ہیں تو پہچان نہیں پاتے۔

حضرت یوسف کے بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ انتہائی اشتعال انگیز حرکت تھی۔ مگر ایک طرف حضرت یوسف کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اپنے معاملہ کو خداکے حوالے کردیا اور سنسان مقام پر اندھے کنویں کے اندر خاموش بیٹھے ہوئے خدا کی مدد کا انتظار کرتے رہے۔ دوسری طرف آپ کے والد حضرت یعقوب نے صبر جمیل کی روش اختیار کی۔ بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ انھوںنے اپنے بیٹوں سے کہا  اگر یوسف کو بھیڑیا کھا جاتا تو وہ اس کی قمیص کو بھی ضرور پھاڑ ڈالتا (لَوْ أَكَلَهُ السَّبْعُ لَخَرَقَ الْقَمِيصَ) تفسیر الطبری، جلد 13 ، صفحہ 36 ۔یعنی وہ بھیڑیا بھی کیسا شریف بھیڑیا تھا جو یوسف کو تو اٹھالے گیا اور خون آلود قمیص کو نہایت صحیح وسالم حالت میں اتار کر تمھارے حوالے کرگیا۔