登入
登入
登入
选择语言

经注: An-Nur 24:15

24:15
اذ تلقونه بالسنتكم وتقولون بافواهكم ما ليس لكم به علم وتحسبونه هينا وهو عند الله عظيم ١٥
إِذْ تَلَقَّوْنَهُۥ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِۦ عِلْمٌۭ وَتَحْسَبُونَهُۥ هَيِّنًۭا وَهُوَ عِندَ ٱللَّهِ عَظِيمٌۭ ١٥
إِذۡ
تَلَقَّوۡنَهُۥ
بِأَلۡسِنَتِكُمۡ
وَتَقُولُونَ
بِأَفۡوَاهِكُم
مَّا
لَيۡسَ
لَكُم
بِهِۦ
عِلۡمٞ
وَتَحۡسَبُونَهُۥ
هَيِّنٗا
وَهُوَ
عِندَ
ٱللَّهِ
عَظِيمٞ
١٥
当时,你们道听而途说,无知而妄言,你们以为这是一件小事;在真主看来,确是一件大事。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
24:14至24:18节的经注

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت حق کے داعی کی تھی۔ داعی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ کردار کی ایک غلطی اس کے پورے مشن کو ڈھادینے کے ليے کافی ہوتی ہے۔ایسی حالت میں جن لوگوں نے یہ کیا کہ ایک اسلامی خاتون کے بارے میں ایک بے بنیاد بات سن کر اس کو اِدھر اُدھر بیان کرنے لگے، انھوں نے سخت غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اس الزام کی بروقت تردید نہ ہو گئی ہوتی تو یہ غلطی اسلام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتی۔ اس کے نتیجے میں پورا سلامی معاشرہ بد گمانیوں کا شکار ہوجاتا۔ مسلمان دو گروہوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے لگتے۔ جس گروہ کے ليے خدا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے شرک کا عالمی غلبہ ختم کیا جائے وہ آپس کی جنگ میں خود اپنے آپ کو ختم کرلیتا۔