登入
登入
登入
选择语言

经注: As-Saffat 37:125

37:125
اتدعون بعلا وتذرون احسن الخالقين ١٢٥
أَتَدْعُونَ بَعْلًۭا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَـٰلِقِينَ ١٢٥
أَتَدۡعُونَ
بَعۡلٗا
وَتَذَرُونَ
أَحۡسَنَ
ٱلۡخَٰلِقِينَ
١٢٥
难道你们祈祷白耳利,而舍弃最优越的创造者--
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
37:123至37:132节的经注

حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔

حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔