登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Isra 17:101

17:101
ولقد اتينا موسى تسع ايات بينات فاسال بني اسراييل اذ جاءهم فقال له فرعون اني لاظنك يا موسى مسحورا ١٠١
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ ءَايَـٰتٍۭ بَيِّنَـٰتٍۢ ۖ فَسْـَٔلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهُۥ فِرْعَوْنُ إِنِّى لَأَظُنُّكَ يَـٰمُوسَىٰ مَسْحُورًۭا ١٠١
وَلَقَدۡ
ءَاتَيۡنَا
مُوسَىٰ
تِسۡعَ
ءَايَٰتِۭ
بَيِّنَٰتٖۖ
فَسۡـَٔلۡ
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
إِذۡ
جَآءَهُمۡ
فَقَالَ
لَهُۥ
فِرۡعَوۡنُ
إِنِّي
لَأَظُنُّكَ
يَٰمُوسَىٰ
مَسۡحُورٗا
١٠١
当穆萨来临以色列人的时候,我确已赏赐穆萨九种明显的迹象。你问一问以色列人吧,法老对他说:穆萨啊!我的确猜想你是中了魔术的人。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

قصہ بنی اسرائیل کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ سورت کے مضمون کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ مسجد اقصیٰ اور بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ یہاں دیا گیا ہے۔ اس قصے کے آخر میں بھی آخرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے آنے کا تذکرہ ہے۔ یہ ان مناظر قیامت کی مناسبت سے ہے جو ابھی سورت میں گزرے تھے اور جن میں بتایا گیا تھا کہ مکذبین کا انجام کیا ہونے والا ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات جن کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا وہ یدبیضا ، عصا ، فرعون اور اس کی قوم پر خشک سالی ، ہر قسم کی پیداوار کی کمی ، طوفان ، ٹڈی دل ، قمل ، مینڈک اور خون تھے۔

فسئل بنی اسرائیل ……(71 : 101) ” فرعون نے اس سے کہا اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں تو ضرور سحر زدہ آدمی ہے “۔ سچی بات ، عقیدہ توحید ، ظلم و سرکشی کا ترک کرنا اور لوگوں کو ایذا نہ دینے کی دعوت دیتا ، ایک باغی اور سرکش شخص کے نزدیک ایک سحر زدہ شخص کا کام ہے۔ کوئی معقول آدمی یہ کام نہیں کرسکتا۔ کیونکہ فرعون کی طرح کے سرکش اور مغرور ڈکٹیٹر ان باتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کے سامنے تو کوئی شخص سر اٹھا کے نہیں چل سکتا۔ چہ جائیکہ وہ ایسی باتیں کرے۔ ان کے خیال میں کوئی معقول فرد ایسی باتیں نہیں کرسکتا ۔ سر پھرے ہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔

موسیٰ (علیہ السلام) تو ایک بہادر آدمی تھے اور ان کا دل سچائی کے نور اور خدائی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ مطمئن تھے کہ اللہ کی امداد اور سر پرستی انہیں حاصل ہے۔ تو انہوں نے کہا۔