登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Kahf 18:10

18:10
اذ اوى الفتية الى الكهف فقالوا ربنا اتنا من لدنك رحمة وهيي لنا من امرنا رشدا ١٠
إِذْ أَوَى ٱلْفِتْيَةُ إِلَى ٱلْكَهْفِ فَقَالُوا۟ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةًۭ وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًۭا ١٠
إِذۡ
أَوَى
ٱلۡفِتۡيَةُ
إِلَى
ٱلۡكَهۡفِ
فَقَالُواْ
رَبَّنَآ
ءَاتِنَا
مِن
لَّدُنكَ
رَحۡمَةٗ
وَهَيِّئۡ
لَنَا
مِنۡ
أَمۡرِنَا
رَشَدٗا
١٠
当时,有几个青年避居山洞中,他们说:我们的主啊!求你把你那里的恩惠赏赐我们,求你使我们的事业完全端正。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
18:9至18:12节的经注

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔

یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔