登入
登入
登入
选择语言

经注: Qaf 50:29

50:29
ما يبدل القول لدي وما انا بظلام للعبيد ٢٩
مَا يُبَدَّلُ ٱلْقَوْلُ لَدَىَّ وَمَآ أَنَا۠ بِظَلَّـٰمٍۢ لِّلْعَبِيدِ ٢٩
مَا
يُبَدَّلُ
ٱلۡقَوۡلُ
لَدَيَّ
وَمَآ
أَنَا۠
بِظَلَّٰمٖ
لِّلۡعَبِيدِ
٢٩
我的判词,是不可变更的,我绝不是亏枉众仆的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
50:27至50:29节的经注

اس مقام پر اس شخص کے ساتھ بھی خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں اور جلدی سے اپنے بارے میں کسی الزام کے سائے کو رد کرتے ہیں ، محض اس بنا پر کہ یہ اس جہنمی کا ساتھی تھا۔

قال قرینہ ۔۔۔۔۔ ضلل بعید (50 : 27) ” اس کے ساتھ نے عرض کیا خدا وندا ، میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا “۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ساتھ وہ نہ ہو جس کا ذکر پہلے ہوا۔ جس نے اس مجرم کے کاغذات پیش کئے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ شیطان ہو وج اس کے ساتھ اسے گمراہ کرنے کے لئے لگا ہوا تھا۔ اور اب وہ یہاں اپنے آپ کو بری الذمہ کرنے میں لگا ہوا ہے اور پورے قرآن مجید میں ایسے مشاہد اور مکالمے موجود ہیں جن میں گمراہ کرنے والے شیاطین اپنی برات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسا کہ یہاں ہے لہٰذا یہ بھی بعید از امکان نہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ قرین سے مراد اعمال نامہ تیار کرنے والا فرشتہ ہو اور اس ہولناک احکام الٰہی سے ڈر گیا ہو اور اپنی برات کا اظہار کر رہا ہو اور یہ بیان کر رہا ہو کہ بیشک میں تو اس بدبخت کا ساتھی تھا ، لیکن ان کی گمراہی میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے ، اس طرح اس بری الذمہ شخص کا اپنی برات ظاہر کرنا اس بات پر دلالت ہوگی کہ اس خوفناک اور کربناک منظر کو دیکھ کر فرشتے ساتھی نے یہ کہا۔

غرض اب آخری حکم آجاتا ہے اور بات ختم ہوجاتی ہے :

قال لا تختصموا ۔۔۔۔۔ بالوعید (50 : 27) ما یبدل بظلام للعبید (50 : 29) ” ارشاد ہوگا ، میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کرچکا تھا “۔ میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں “۔ لہٰذا یہ جھگڑنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اسے قبل تمہیں باربار خبردار کردیا گیا تھا کہ ہر عمل پر جزاء و سزا ملے گی ، تمام اعمال لکھ دئیے گئے ہیں۔ اب ان کے اندر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ہر کسی کو اس کے اعمال نامے کے مطابق بدلہ ملے گا۔ کسی پر ظلم نہ ہوگا کیونکہ جزا دینے والا حاکم عادل ہے۔

اس پر حساب و کتاب کا یہ منظر اپنی تمام ہولناکیوں اور شدت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے لیکن ابھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا ایک خوفناک پہلو ابھی باقی ہے۔