登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Hashr 59:5

59:5
ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها فباذن الله وليخزي الفاسقين ٥
مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٥
مَا
قَطَعۡتُم
مِّن
لِّينَةٍ
أَوۡ
تَرَكۡتُمُوهَا
قَآئِمَةً
عَلَىٰٓ
أُصُولِهَا
فَبِإِذۡنِ
ٱللَّهِ
وَلِيُخۡزِيَ
ٱلۡفَٰسِقِينَ
٥
无论你们砍伐海枣树,或任其依然存在,都是真主所允许的,他准许伐树,原为凌辱放荡者。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

لینہ (95 : 5) کھجور کے بہترین درختوں کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بہترین قسم تھے جسے سب جانتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں کے باغات میں سے بعض کو کاٹا تھا۔ بعض کو چھوڑدیا تھا۔ ان کے دلوں میں ایک خلجان تھا ، یعنی کاٹنے پر ، اور چھوڑنے پر۔ جبکہ اس سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے جنگی ضابطہ یہی رہا کہ تحریق اور بربادی سے گریز کیا جائے۔ اس لئے اس واقعہ میں جو کچھ ہوا اس کی استثنائی حالت کے لئے یہ آیت آئی تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں۔ آیت نے کہہ دیا کہ اگر باغات جلانے کو تم نے چھوڑا ہے اور اس سے اجتناب کیا ہے تو یہ بھی اللہ کا اذن تھا اور اگر کاٹ کر جلایا ہے تو یہ بھی اذن الٰہی تھا۔ کیونکہ اس مہم کی نگرانی اللہ براہ راست کررہا تھا۔ اس لئے اللہ نے مسلمان لشکروں سے ایسا کروایا۔ ان کے ہاتھوں تعذیر کو ظاہر کیا۔ لہٰذا یہ سب کاروائیاں اس کی مرضی سے ہوئیں۔ ان سے اللہ ان فاسقوں کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے باغات گر رہے تھے اور جل رہے تھے اور جو چھوڑے گئے تھے وہ بھی ان کے لئے باعث حسرت تھے کہ چھوڑ کر جارہے تھے۔ اللہ کی منشا تھی کہ دونوں طرح ان کو حسرت سے دو چار کرے۔

جن مومنین کے دل میں خلجان تھا کہ یہ تخریب وتحریق کیوں ہوئی ، ان کو اطمینان ہوا ، ان کو تسلی ہوگئی کہ یہ تو اللہ کی منشا تھی۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ تو دست قدرت کے آلات محض تھے۔

اس سورة کا یہ دوسرا پیراگراف بھی ایک نہایت ہی اہم مسئلے کو لیتا ہے کہ اس واقعہ میں جو اموال ہاتھ لگے اور حضور کی طرف پلٹے یا ایسے ہی واقعات بعد کے زمانے میں پیش آئیں تو ان کا حکم کیا ہے۔ یعنی وہ اموال جو جنگ اور قتال کے بغیر ہاتھ آجائیں۔ یا ایسے واقعات جن میں قدرت الٰہیہ نے مسلمانوں کے لئے اموال فراہم کیے۔ اور مسلمانوں نے اس میں کوئی زیادہ جنگی کاروائی نہ کی ہو۔