登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Hashr 59:9

59:9
والذين تبوءوا الدار والايمان من قبلهم يحبون من هاجر اليهم ولا يجدون في صدورهم حاجة مما اوتوا ويوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فاولايك هم المفلحون ٩
وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلْإِيمَـٰنَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِى صُدُورِهِمْ حَاجَةًۭ مِّمَّآ أُوتُوا۟ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌۭ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٩
وَٱلَّذِينَ
تَبَوَّءُو
ٱلدَّارَ
وَٱلۡإِيمَٰنَ
مِن
قَبۡلِهِمۡ
يُحِبُّونَ
مَنۡ
هَاجَرَ
إِلَيۡهِمۡ
وَلَا
يَجِدُونَ
فِي
صُدُورِهِمۡ
حَاجَةٗ
مِّمَّآ
أُوتُواْ
وَيُؤۡثِرُونَ
عَلَىٰٓ
أَنفُسِهِمۡ
وَلَوۡ
كَانَ
بِهِمۡ
خَصَاصَةٞۚ
وَمَن
يُوقَ
شُحَّ
نَفۡسِهِۦ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡمُفۡلِحُونَ
٩
在他们之前,安居故乡而且确信正道的人们,他们喜爱迁居来的教胞们,他们对于那些教胞所获的赏赐,不怀怨恨,他们虽有急需,也愿把自己所有的让给那些教胞。能戒除自身的贪吝者,才是成功的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

والذین ........................ المفلحون (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔

یہ ہے انصار کی ایک خوبصورت تصویر جس کے اندر ان کے اہم خدوخال نہایت ہی نمایا کرکے دکھائے گئے ہیں یہ مجموعہ صفات اگر عملاً مدینہ میں واقع نہ ہوا تھا اور عملاً اپنے انتہاؤں تک نہ گیا ہوتا تو لوگ اسے افسانہ سمجھتے اور لوگ کہتے یہ بہترین تخیل ہے۔

والذین ................ من قبلھم (95 : 9) ” جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے “۔ یعنی مدینة الرسول (ﷺ) ۔ میں یہ انصار تھے جو ایمان لاکر یہاں مقیم تھے۔ اسی طرح انہوں نے ایمان کو بھی یہاں مقیم کردیا تھا۔ گویا مدینہ منزل ایمان ویقین تھا۔ یہ ایک نہایت ہی خوبصورت اشارتی تعبیر ہے۔ انصار نے ایمان کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا یہ اس کی بہترین تصویر ہے۔ یہ ایمان کا گھر تھا ، یہ ایمان کا وطن تھا ، یہاں مومنین کے دل اٹکے ہوئے تھے اور یہاں ان کے قلوب اور روح کو سکون ملتا تھا۔ یہاں لوٹ کر وہ مطمئن ہوتے تھے جس طرح ایک شخص گھر آکر مطمئن ہوتا ہے لہٰذا مدینہ دار الایمان تھا۔

یحبون .................... اوتوا (95 : 9) ” یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے “۔ تاریخ انسانی میں کوئی ایسا اجتماعی واقعہ نہیں ہے کہ کسی قوم نے مہاجرین کا اس طرح استقبال کیا ہو جس طرح انصار نے مدینہ میں مہاجرین کا کیا۔ نہایت محبت ، ایثار ، سخاوت ، مروت کے ساتھ۔ انہوں نے ان کو اپنے مال میں شریک کیا۔ مکانوں میں ٹھہرایا اور ان کی تمام ذمہ داریاں قبول کیں۔ روایات میں آتا ہے کہ کوئی مہاجر کسی انصاری کے گھر بذریعہ نامزدگی نہیں ٹھہرا بلکہ ہر شخص پر قرعہ اندازی ہوئی۔ کیونکہ جب کوئی مہاجر آتا تو کئی لوگ آجاتے کہ ہمارے ہاں ٹھہرے گا۔

ونا یجدون ................ اوتوا (95 : 9) ” جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے “۔ یعنی جن صورتوں کے اندر مہاجرین کو زیادہ دیا گیا۔ یہاں فے سب کا سب ان کے لئے مخصوص کردیا گیا تو اس کی وجہ سے وہ اپنے دلوں میں حاجت محسوس نہیں کرتے۔ یہاں تنگی یا حسد کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ اس سے ان کے دلوں کی پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے دلوں کے اندر کوئی ضرورت ، حاجت یا کوئی چیز بھی وہ نہیں محسوس کرتے۔

ویوثرون ................ خصاصة (95 : 9) ” اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ دل کی تنگی ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ یہ ہر بھلائی کے دروازے کو بند کردیتی ہے کیونکہ کسی نہ کسی صورت میں مالی تاوان کا مطالبہ کرتی ہے۔ جذبات کو دبانے کا مطالبہ کرتی ہے اور محنت صرف کرنے کا مطالبہ کرتی ہے اور بعض اوقات بھلائی کے راستے میں جان تک دینے کا مطالبہ ہوا کرتا ہے۔ کوئی بخیل کبھی نیکی کا کام نہیں کرسکتا ، وہ تو ہر وقت لینے کی فکر میں ہوتا ہے۔ دنیا کچھ بھی نہیں ہے اور جو شخص دل کی تنگی سے بچ گیا ، اس کے سامنے سے گویا ایک بڑی رکاوٹ دور کردی گئی اور وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کرتے ہوئے۔ دادودہش کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔