登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Qasas 28:23

28:23
ولما ورد ماء مدين وجد عليه امة من الناس يسقون ووجد من دونهم امراتين تذودان قال ما خطبكما قالتا لا نسقي حتى يصدر الرعاء وابونا شيخ كبير ٢٣
وَلَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةًۭ مِّنَ ٱلنَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ ٱمْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِى حَتَّىٰ يُصْدِرَ ٱلرِّعَآءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌۭ كَبِيرٌۭ ٢٣
وَلَمَّا
وَرَدَ
مَآءَ
مَدۡيَنَ
وَجَدَ
عَلَيۡهِ
أُمَّةٗ
مِّنَ
ٱلنَّاسِ
يَسۡقُونَ
وَوَجَدَ
مِن
دُونِهِمُ
ٱمۡرَأَتَيۡنِ
تَذُودَانِۖ
قَالَ
مَا
خَطۡبُكُمَاۖ
قَالَتَا
لَا
نَسۡقِي
حَتَّىٰ
يُصۡدِرَ
ٱلرِّعَآءُۖ
وَأَبُونَا
شَيۡخٞ
كَبِيرٞ
٢٣
当他来到麦德彦的泉边的时候,他看见有一群人在那里饮羊,他发现除他们外还有两女子,拦着她们俩的羊群。他说:你们俩为什么这样呢?她俩说:我们要到牧人们使他们的羊离开泉水,才得饮我们的羊,我们的父亲是一位龙钟的老人。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

ولما ورد مآء مدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی من خیر فقیر (23-24)

یہ طویل صحرائی سفر ختم ہوا اور حضرت موسیٰ مدین کے ایک چشمے پر پہنچے۔ آپ تھکے ماندے مسافر ہیں۔ اس چشمے پر وہ ایک ایسا منظر دیکھتے ہیں جسے کوئی شریف اور بامروت آدمی برداشت نہیں کرسکتا اور پھر حضرت موسیٰ کیسے برداشت کرتے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ مرد چرواہے اپنے مویشیوں کو لا لا کر پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں ہیں جو اپنی بکریوں کو پانی سے دور روک رہی ہیں۔ حالانکہ فطرت سلیمہ اور مروت کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے عورتوں کو موقعہ دیا جائے کہ وہ اپنی بھیڑوں کو پانی پلائیں اور چلی جائیں اور مرد ان کو موقع دیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں۔ ” Ladies First “ ایک فطری اصول ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک غریب الدیار مسافر ہیں ، اپنے علاقے سے نکلے ہوئے ہیں اور ان کا پیچھا بھی ہو رہا ہے۔ تھکے ہارے ہیں اور آرام کرنے کی خاطر اس چشمے پر آئے ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ یہ منظر معروف اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ وہ آگے بڑھتے ہیں اور ان دو عورتوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا معاملہ ہے ؟

قال ما خطبکما (28: 23) ” تمہیں کیا پریشانی ہے “۔

قالتا لا نسقی ۔۔۔۔۔ شیخ کبیر (28: 23) ” انہوں نے کہا ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک چرواہے اپنے جانور نکال نہ لے جائیں اور ہمارے والد ایک سن رسیدہ بوڑھے ہیں “۔ چناچہ انہوں نے بتا دیا کہ وہ کیوں اپنے جانروں کو روک رہی ہیں اور کیوں دوسروں کو پہلے موقعہ دیتی ہیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ عورتیں ہیں اور ضعیف ہیں اور دوسرے چرواہے مرد ہیں اور زور آور ہیں۔ اور باپ بوڑھے ہیں وہ نہ مویشی چرا سکتے ہیں اور نہ ان مضبوط چرواہوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جذبہ ایمانی جوش میں آیا ۔ آپ کی فطرت سلیمہ جاگ اٹھی۔ وہ آگے بڑھے اور اصول کے مطابق کام کیا تاکہ بیچاری عورتیں پہلے پانی پلائیں جیسا کہ شریف اور مہذب لوگوں کا رواج ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ غریب الدیار تھے۔ ان کا کوئی نہ جانتا تھا ، نہ یہاں ان کا کوئی حامی و مددگار تھا ، تھکے ماندے تھے ، ایک طویل سفر کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے۔ ان کا کوئی نہ جانتا تھا ، نہ یہاں ان کا کوئی حامی و مددگار تھا ، تھکے ماندے تھے ، ایک طویل سفر کاٹ کر یہاں تک پہنچے تھے اور ان کے پاس مزید سفر کے لیے کوئی سازوسامان بھی نہ تھا۔ ان کا پیچھا بھی ہو رہا تھا ، دشمن تعاقب میں تھے لیکن یہ تمام امور ان کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکے کہ وہ اس موقعہ پر مروت اور جوانمردی کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور امر بالمعروف پر عمل پیرا نہ ہوں اور لوگوں کو یہ بتا نہ دیں کہ قدرت انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کو پہلے موقعہ دیا جائے۔