登入
登入
登入
选择语言

经注: At-Taghabun 64:1

64:1
يسبح لله ما في السماوات وما في الارض له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ١
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ لَهُ ٱلْمُلْكُ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ ١
يُسَبِّحُ
لِلَّهِ
مَا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَمَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِۖ
لَهُ
ٱلۡمُلۡكُ
وَلَهُ
ٱلۡحَمۡدُۖ
وَهُوَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٌ
١
凡在天地间的,都赞颂真主超绝万物。国权只归他所有,赞颂只归他享受,他对於万事是全能的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
64:1至64:4节的经注
تفسیر سورۃ التغابن:

ابن عساکر کی ایک بہت ہی غریب بلکہ منکر حدیث میں ہے کہ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے سر کے جوڑوں میں سورۂ تغابن کی پانچ آیتیں لکھی ہوتی ہیں۔ [طبرانی اوسط:1784:موضوع] ‏

تفسیر التغابن ٭٭

مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» [82-الانفطار:6-8] ‏ ” اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی “۔

اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» [40-غافر:64] ‏، ” اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں “۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔

صفحہ نمبر9537