登入
登入
登入
选择语言

经注: Muhammad 47:3

47:3
ذالك بان الذين كفروا اتبعوا الباطل وان الذين امنوا اتبعوا الحق من ربهم كذالك يضرب الله للناس امثالهم ٣
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْبَـٰطِلَ وَأَنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّبَعُوا۟ ٱلْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَـٰلَهُمْ ٣
ذَٰلِكَ
بِأَنَّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
ٱتَّبَعُواْ
ٱلۡبَٰطِلَ
وَأَنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱتَّبَعُواْ
ٱلۡحَقَّ
مِن
رَّبِّهِمۡۚ
كَذَٰلِكَ
يَضۡرِبُ
ٱللَّهُ
لِلنَّاسِ
أَمۡثَٰلَهُمۡ
٣
那是由于不信道的人们遵守虚伪,而信道的人们遵守从他们的主降示的真理。真主如此为众人设许多譬喻。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
47:1至47:3节的经注
باب

ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے خود بھی اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور دوسروں کو بھی راہ اللہ سے روکا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ان کی نیکیاں بیکار ہو گئیں۔

جیسے فرمان ہے «وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا» [25-الفرقان:23] ‏ ” ہم نے ان کے اعمال پہلے ہی غارت و برباد کر دئیے ہیں “، اور جو لوگ ایمان لائے دل سے اور شرع کے مطابق اعمال کئے بدن سے یعنی ظاہر و باطن دونوں اللہ کی طرف جھکا دئیے۔ اور اس وحی الٰہی کو بھی مان لیا جو موجودہ آخر الزمان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہے۔ اور جو فی الواقع رب کی طرف سے ہی ہے اور جو سراسر حق و صداقت ہی ہے۔ ان کی برائیاں برباد ہیں اور ان کے حال کی اصلاح کا ذمہ دار خود اللہ ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو چکنے کے بعد ایمان کی شرط آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور قرآن پر ایمان لانا بھی ہے۔ حدیث کا حکم ہے کہ جس کی چھینک پر حمد کرنے کا جواب دیا گیا ہو اسے چاہیئے کہ «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت سنوار دے ۔ [صحیح بخاری:6224] ‏

پھر فرماتا ہے کفار کے اعمال غارت کر دینے کی مومنوں کی برائیاں معاف فرما دینے اور ان کی شان سنوار دینے کی وجہ یہ ہے کہ کفار تو ناحق کو اختیار کرتے ہیں حق کو چھوڑ کر اور مومن ناحق کو پرے پھینک کر حق کی پابندی کرتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔

صفحہ نمبر8502