登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Mujadila 58:19

58:19
استحوذ عليهم الشيطان فانساهم ذكر الله اولايك حزب الشيطان الا ان حزب الشيطان هم الخاسرون ١٩
ٱسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ فَأَنسَىٰهُمْ ذِكْرَ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ حِزْبُ ٱلشَّيْطَـٰنِ ۚ أَلَآ إِنَّ حِزْبَ ٱلشَّيْطَـٰنِ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ ١٩
ٱسۡتَحۡوَذَ
عَلَيۡهِمُ
ٱلشَّيۡطَٰنُ
فَأَنسَىٰهُمۡ
ذِكۡرَ
ٱللَّهِۚ
أُوْلَٰٓئِكَ
حِزۡبُ
ٱلشَّيۡطَٰنِۚ
أَلَآ
إِنَّ
حِزۡبَ
ٱلشَّيۡطَٰنِ
هُمُ
ٱلۡخَٰسِرُونَ
١٩
恶魔已经制服了他们,因而使他们忘却真主的教训;这等人,是恶魔的党羽。真的,恶魔的党羽确是亏折的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
58:18至58:19节的经注

یوم یبعثھم ................ لکم (85 : 81) ” جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق ان کی گھٹی میں پڑگیا ہے۔ قیامت میں بھی یہ ان کے ساتھ رہے گا۔ اور اللہ ذوالجلال کے سامنے بھی یہ جھوٹی قسمیں اٹھانے کی جرات کریں گے۔ حالانکہ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے۔

ویحسبون ................ شیئ (85 : 81) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے ج کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا “۔ حالانکہ وہ ہوا میں لٹک رہے ہیں ان کے پاؤں تلے تو زمین نہیں ہے .... حقیقی جھوٹے ہیں یہ لوگ۔

الا انھم ............ الکذبون (85 : 81) ” وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں “۔

ان کی ان حرکان کا سبب یہ ہے کہ شیطان ان پر پوری طرح چھایا گیا ہے۔

فانسھم ذکر اللہ (85 : 91) ” اس نے اللہ کی اد ان کے دل سے بھلا دی ہے “۔ اور جو دل اللہ کو بھلا دیتا ہے وہ بگڑ جاتا ہے اور شر کے لئے خالص ہوجاتا ہے۔

اولئک حزب الشیطن (85 : 91) ” یہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ اور شیطان کی پارٹی خالص اس کے لئے کام کرتی ہے ، اس کے جھنڈے تلے چلتی ہے۔ اس کے نام سے کام کرتی ہے۔ اس کے مقاصد پورے کرتی ہے۔ یہ پارٹی خالص شر ہے اور خالص خسارے میں پڑے گی۔

الا ان ................ الخسرون (85 : 91) ” خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ بہت ہی شدید اور سخت تنقیدی حملہ ہے جو ان منافقین پر کیا گیا۔ یہ طویل تنقیدی حملہ اس لئے کیا گیا کہ وہ رات دن نہایت ہی خطرناک سازشوں میں مصروف تھے۔ رات دن یہودیوں سے مل کر مسلمانوں کے خلاف تدابیر سوچتے تھے۔ اس تنقیدی حملے سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو خوب اطمینان ہوا ہوگا اور آئندہ بھی ہوگا کہ ان کی جانب سے اللہ خود تدابیر کرتا ہے۔

یہ منافقین یہودیوں کے ہاں پناہ لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہودی ایک قابل لحاظ قوت ہیں ، ان سے لوگ ڈرتے ہیں اور امیدیں بھی انہی سے وابستہ ہیں۔ اور یہ لوگ اسی غرض سے ان سے مشورہ اور معاونت طلب کرتے ہیں۔ اس لئے اللہ ان کو یہودیوں سے مایوس فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ ان یہودیوں پر تو ذلت اور شکست لکھ دی گئی ہے۔ اور اللہ بھی غالب ہے اور اس کا رسول بھی غالب رہے گا۔