登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Mujadila 58:3

58:3
والذين يظاهرون من نسايهم ثم يعودون لما قالوا فتحرير رقبة من قبل ان يتماسا ذالكم توعظون به والله بما تعملون خبير ٣
وَٱلَّذِينَ يُظَـٰهِرُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا۟ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَآسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ ٣
وَٱلَّذِينَ
يُظَٰهِرُونَ
مِن
نِّسَآئِهِمۡ
ثُمَّ
يَعُودُونَ
لِمَا
قَالُواْ
فَتَحۡرِيرُ
رَقَبَةٖ
مِّن
قَبۡلِ
أَن
يَتَمَآسَّاۚ
ذَٰلِكُمۡ
تُوعَظُونَ
بِهِۦۚ
وَٱللَّهُ
بِمَا
تَعۡمَلُونَ
خَبِيرٞ
٣
把妻子当做母亲然后悔其所言者,在交接之前,应该释放一个奴隶。那是用来劝告你们的,真主是彻知你们的行为的。
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训

والذین .................... خبیر (85 : 3) ” جو لوگ اپنی بیویوں سے اظہار کریں پھر اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی ، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “

اللہ تعالیٰ نے کئی کفاروں میں غلام کی آزادی کی تجویز رکھی ہے۔ یہ اسلام نے دنیا سے غلامی کو ختم کرنے کے لئے ایک تدبیر کی تھی۔ کیونکہ اس دور میں جنگ کے بین الاقوامی قوانین میں غلامی کو جائز رکھا گیا تھا۔ اسلام نے بہرحال اس کے ختم کرنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں۔ یہاں آیت۔

ثم یعودون لمام قالوا (85 : 3) ” پھر وہ اس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی۔ “ کے مفہوم میں بہت سے اقوال وارد ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دوبارہ مجامعت کا ارادہ کرلیں جسے انہوں نے بذریعہ ظہار اپنے اوپر حرام کردیا ہے ، یہ مفہوم سیاق کلام کے زیادہ قریب ہے۔ لہٰذا غلام کا آزاد کرنا ، اس مجامعت سے قبل ہوگا۔ اس پر نصیحت۔

ذلکم توعظون بہ (85 : 3) ” اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے “۔ کفارہ ایک قسم کی یاد دہانی اور تازیانہ عبرت ہے کہ دوبارہ یہ حرکت نہ کرو ، کیونکہ یہ رسم نہ حق ہے اور نہ معروف طریقہ ہے۔

واللہ بما تعملون خبیر (85 : 3) ” اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ “ اللہ کو اس کی حقیقت معلوم ہے۔ واقعات سے بھی وہ خبردار ہے اور تمہاری معاشرت سے بھی وہ خبردار ہے۔

یہ نصیحت اور عبرت آموزی قانون ظہار کی تکمیل سے پہلے آگئی۔ نفوس کی تربیت کے لئے اور اس لیے کہ اللہ جو قانون بنارہا ہے وہ اپنے علم اور اپنی حکمت کے مطابق بنارہا ہے۔ وہ ظاہر سے بھی خبردار ہے اور باطن سے بھی۔ اب اس کے بعد حکم کو مکمل کیا جاتا ہے۔