登入
登入
登入
选择语言

经注: Al-Baqarah 2:94

2:94
قل ان كانت لكم الدار الاخرة عند الله خالصة من دون الناس فتمنوا الموت ان كنتم صادقين ٩٤
قُلْ إِن كَانَتْ لَكُمُ ٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ عِندَ ٱللَّهِ خَالِصَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنَّاسِ فَتَمَنَّوُا۟ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٩٤
قُلۡ
إِن
كَانَتۡ
لَكُمُ
ٱلدَّارُ
ٱلۡأٓخِرَةُ
عِندَ
ٱللَّهِ
خَالِصَةٗ
مِّن
دُونِ
ٱلنَّاسِ
فَتَمَنَّوُاْ
ٱلۡمَوۡتَ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٩٤
你说:如果在真主那里的後世的安宅,是你们私有的,他人不得共享,那末,你们若是诚实的,你们就希望早死吧!
经注
层
课程
反思
答案
基拉特
圣训
2:94至2:95节的经注

اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے کہ ان سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس تحدی کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ حیات دنیوی کے لئے سب سے زیادہ حریص ہیں اور یہی حال تمام دوسرے مشرکین کا بھی ہے (بلکہ یہ اس معاملے میں ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ) چناچہ فرماتے ہیں ؟